حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 66 of 923

حیاتِ خالد — Page 66

حیات خالد 70 قلم سے آپ کے اساتذہ کرام کا تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔اساتذہ کرام تعلیمی دور کے ابتدائی ایام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا نے ایک مہربان استاد کا تذکرہ فرمایا:- ان دنوں بیرونی ممالک میں زیادہ مشن نہ تھے۔ہمارے انگریزی کے استاد حضرت مولوی ا عبدالرحیم صاحب نیر کو جب حکم ہوا کہ وہ انگلستان جانے کیلئے تیاری کریں تو میں تیسری جماعت میں تھا۔وہ ہمیں روزانہ پڑھانے کے بعد نہایت پیارے انداز میں یہ تذکرہ شروع فرمایا کرتے تھے کہ بچوا یعنقریب خدا کی راہ میں سفر پر جاؤں گا۔اسے وہ اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھتے تھے اور ہم سب بچوں کو بھی دعا کیلئے کہا کرتے تھے اور خود بھی بہت دعا ئیں کیا کرتے تھے۔ہمارے دل میں بھی جوش پیدا ہوتا تھا کہ ہم بھی جلد جلد اپنے تعلیمی کورس کو پورا کر کے خدمت دین کا کام کرنے کے قابل ہو جائیں۔حضرت مولوی صاحب بہت محبت کرنے والے استاد تھے۔مجھے اوائل میں ان کے گھر میں بھی جانے کا موقعہ ملتا رہا۔بالعموم اساتذہ ان دنوں طلبہ سے بہت انس رکھتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے عازم سفر ہوتے وقت اکثر طلبہ کی آنکھیں ان کی جدائی کی بناء پر پر نم تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت مولانا نیر صاحب کو انگلستان میں اور پھر مغربی افریقہ میں خاص خدمات کی توفیق بخشی اور ہزار ہا افریقن ان کے ذریعہ سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے“۔(الفرقان اپریل ۱۹۶۸ صفحه ۱۲-۱۳) یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ احمدیہ میں حضرت مولوی محمد دین صاحب کا تذکرہ ہمارے جملہ اساتذہ شفیق اور مہربان تھے۔وہ طلبہ کو سلسلہ کی عظیم امانت تصور کرتے تھے۔ان کی خواہش ہوتی تھی کہ چونکہ یہ سلسلہ کے مبلغین بننے والے ہیں اور چار دانگ عالم میں پیغام حق پہنچائیں گے اس لئے ان کی تعلیم و تربیت میں بہترین حصہ لے کر ہم ثواب میں شریک ہوں گے اور اپنے اعمال کو اعمال جاریہ بنا سکیں گے۔یہی پاکیزہ خیال ہمارے اساتذہ کا نصب العین تھا۔میرے اساتذہ میں سے ایک خاص مہربان استاد حضرت مولوی محمد دین صاحب بی اے سابق مبلغ امریکہ بعد میں صدر۔صدر انجمن احمد یہ بھی تھے۔مجھے ان سے مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت میں بھی انگریزی کے کچھ سبق پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔پھر جب میں ۱۹۳۶ء میں فلسطین سے واپس آیا تو مجھے خیال ہوا کہ انگریزی کے بعض امتحان بھی پاس کرنے چاہئیں چنانچہ میں نے اس سال میٹرک کا امتحان