حیاتِ خالد — Page 655
حیات خالد 0 650 آخری ایام مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب مرحوم سابق صدر مجلس کار پرداز و استاد جامعہ احمدیہ نے حضرت مولانا کی بیگم صاحبہ اور بیٹوں کے نام اپنے تعزیتی خط میں لکھا کہ حضرت مولانا جیسے بلند پایہ جید عالم اور بزرگ ہستی کی ہمارے ساتھ اس قدر بے تکلفی اور شفقت تھی کہ جب یاد آتے ہیں تو دل بے چین ہو جاتا ہے۔یہ امر حضرت مولانا کے بلند روحانی مقام پر دلالت کرتا ہے کہ نہ صرف خود دین کیلئے اپنی زندگی کے آخری سانس تک وقف رہے بلکہ اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر گامزن کیا۔جدائی کا صدمہ تو شدید ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی زندگی خدمت دینیہ کے لحاظ سے قابل رشک تھی جس کا اظہار اس دنیا میں اس طرح ہوا کہ آپ حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے خالد کے لقب سے نوازے گئے۔آپ کا انجام بھی قابل رشک ہے کہ آخر دم تک ایک بھر پور اور فعال خادم دین کے طور 0 پر کام کرتے رہے۔حضرت مولانا کے شاگر د مکرم چوہدری عبد الکریم خان صاحب کا ٹھگو ھی مرحوم نے لکھا کہ حضرت مولانا کا یہ خاص قابل رشک وصف تھا کہ وہ اپنے سب شاگردوں سے غیر معمولی شفقت سے پیش آتے اور سعادت مند شاگرد بھی ان کی دلی تعظیم کرتے۔علمی، تربیتی اور تبلیغی میدان میں آپ کے عظیم الشان کا رہائے نمایاں رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راور ہیں گے۔0 مکرم بریگیڈیر (ر) ضیاء الحسن صاحب مرحوم نے راولپنڈی سے تحریر کیا کہ حضرت مولانا ایک بے نظیر شخصیت کے مالک تھے۔ان کا تبحر علمی، مناظرہ میں کمال، قرآن دانی اور حدیث پر عبور جماعت میں منفر د حیثیت رکھتا تھا۔آپ احمدیت کے درخشندہ ستارے تھے جس کا ایک ثبوت آپ کے شاگردوں کی کثرت ہے۔مکرم حافظ محمد اعظم صاحب مولوی فاضل نے گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار دی بلائنڈ ، پشاور سے لکھا کہ میرا حضرت مولانا سے براہ راست لمبا عرصہ تعلق رہا۔میرے انتہائی مہربان اور شفیق استاد کی 0 وفات پوری جماعت کا صدمہ ہے۔0 جناب محمود مجیب اصغر صاحب انجنیئر نے لکھا کہ حضرت مولانا کی امام وقت کے ساتھ محبت اور اطاعت عاشقانہ رنگ رکھتی تھی۔آپ نہایت بزرگ عالم اور ولی اللہ تھے۔0 کراچی سے مکرم سید سعید خالد صاحب نے لکھا کہ آپ نے زندگی وقف کرنے کا عہد کیا اور پھر ایسا نبھایا کہ زندگی کے آخری دم تک آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔عاجزی اور انکساری