حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 645 of 923

حیاتِ خالد — Page 645

حیات خالد 640 اک مرد حق نے سب کی دعا لی، چلا گیا اک نگاہ کی ڈالی، چلا گیا دنیا حفظ حصار دیں کے لئے وقف ہو گیا ترکش کو اپنے کر کے وہ خالی چلا گیا طرز بیاں میں جس کی محبت کا سحر تھا دنیا وہ خطیب مثالی، چلا گیا آخری ایام اپنوں ہی کا نہیں جسے غیروں کا غم بھی تھا وہ صاحب صفات جمالی، چلا گیا آئے گی اب نہ گلشن دیں میں کبھی خزاں وہ اپنے خون کی لائی، چلا گیا دے کر جس کو خطاب خالد عصر رواں ملا ظاہر تھی جس شان بلالی، چلا گیا میدان میں شیر، بزم میں آواز عندلیب جس کی روش تھی سب سے نرالی، چلا گیا احمد عطا تھی جس کی اسی کے حضور میں عالی، چلا گیا ابو العطاء وہ بنده عالی بشیر الدین احمد لاہور (الفضل ۲۲ / جون ۱۹۷۷ء)