حیاتِ خالد — Page 642
دین احمد کا جال ملک لمت شار گیا غمگسار گیا عزم و ہمت کا کوہسار گیا علم حکمت کا آبشار گیا دانش کا ابر گوھر گوھر بار کرتا ہم کو اشکبار گیا جس نے علم اور آگہی بخشی اب وہ استاد ذی وقار گیا }۔کی خاطر خاطر جو کر کے وہ بے قرار رہا کو بیقرار گیا دفن ہونے کے بعد بھی اکثر گھوم آنکھوں میں بار بار گیا وہ بھی "خالد" تھا اک اک جماعت میں بو العطاء کر کے دلفگار گیا اس خلا کو آؤ پُر کر لیں راه خالی شہسوار ہے گیا۔اک قافلہ ہو سفر کاروان پہلا اس کنار گیا راجہ نذیر احمد ظفر ( الفضل ۲ جولائی ۱۹۷۷ء)