حیاتِ خالد — Page 640
ابوالعطاء ہمیں داغ فراق دے کے گئے دعائے خستہ دلاں اپنے ساتھ لے کے گئے خدا سے پائی انہوں نے طبیعت مسکیں وہ فطرتا تھے شگفتہ مزاج وخندہ جبیں فقیهه و عالم دین و ادیب و دانشور تھی ان کی ذات گرامی بھی بے بہا گوہر زبان میں وہ حلاوت کہ دنگ اہل زباں بیان میں وہ سلاست کہ اہل حق قرباں زبان اہل عرب پر عبور تھا ان کو کلام پاک کا اعلیٰ شعور تھا ان کو ہر اک بزرگ کا عزت سے نام لیتے تھے ہمیشہ نرم زبانی کام لیتے تھے مناظروں کو نئی شان آپ نے دی تھی مباحثوں کی بھی اصلاح آپ نے کی تھی قلم میں زور تھا ان کے، زبان میں تاثیر وہ کھینچ دیتے تھے انجام کار کی تصویر خدا سے خدمت دیں کی انہیں ملی توفیق خدا ہی ان کا ولی تھا خدا ہی ان کا رفیق خدا نے ان کو عطا کی سعید و نیک اولاد جو وقف خدمت دیں ہو کے ہیں سراسر شاد الہی مولوی صاحب کی مغفرت فرما کر اپنے فضل سے ان کو مقام قرب عطا سلیم کی کی یہ دعا ہے کہ اے خدائے رحیم ابوالعطاء کو ملے خلد میں مقام عظیم سلیم شاہجہانپوری ( نواب شاہ ) ( الفضل هم جولائی ۱۹۷۷ء)