حیاتِ خالد — Page 625
حیات خالد 620 آخری ایام مجھے اس رحمت سے نوازا وَلَا فَخْرَ آنحضرت عیہ کے منہ سے یہ کہلوا دیا اور یہ حقیقت ہے پس سب سے حسین اور سب سے بزرگ اسوہ تو ہمارے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے لیکن آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت محمدیہ کو بھی اللہ تعالی نے اپنے بے حد فضلوں اور رحمتوں سے نوازا ہے ا۔اور جس کو نوازا ہے رحمانیت کے جلووں سے نوازا ہے اور جیسا کہ ان آیات قرآنیہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے ان کو نوازا ہے جنہوں نے خدائے رحمن سے منہ نہیں موڑا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ جس نے خدائے رحیم سے منہ موڑا اس کے ساتھ شیطان لگایا جاتا ہے۔بلکہ جس نے خدائے رحمان سے منہ موڑا اس کے ساتھ شیطان لگایا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ان کو نوازتا ہے جن کی زبانوں پر سب کچھ کرنے کے بعد بھی خدا کا ہی ذکر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی لئے فرمایا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد سمجھو کہ تم نے کچھ نہیں کیا اور جو پایا خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے جلووں کے نتیجہ میں پایا اور اس کے فضل سے تمہیں ملا تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔میں نے بڑا سوچا ہے عقلا بھی نہیں بنتا لیکن شرعاً ملا اور اسلامی ہدایات کے مطابق تو بالکل نہیں بنتا۔جانے والے چلے گئے ہم سے جدا ہو گئے۔جہاں تک صدمے کا تعلق ہے وہ بھی انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے لیکن سوائے بعض رشتوں کے تین دن تک ہی سوگ منانے کا حکم ہے، زیادہ سے زیادہ آپ تین دن تک سوگ منا سکتے ہیں اور اس پر بھی پابندیاں ہیں۔سوگ بھی خدائے رحمن کو یاد کرتے ہوئے منانا ہے پیٹنا نہیں۔غلط قسم کے الفاظ منہ سے نہیں نکالنے زمانے کو کوسنا نہیں وغیرہ وغیرہ۔بہت سی چیزیں ہیں اور اس کے بعد پھر یہ نہیں کہ حسبنا اللہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے۔وہ اللہ جو رحمن ہے جس سے ایک لحظہ کے لئے بھی اگر ہم منہ موڑ لیں تو ہمارے لئے ہلاکت کا باعث ہے کیونکہ پھر شیطان ہم پر سوار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بھی کچھ ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا کہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی ایسی بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ہمیں دنیوی عزتیں اور دولتیں دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔دونوں جانے والوں کی زندگیاں ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں۔ابوالعطاء صاحب نے بھی بالکل نو جوانی کی عمر سے ہی خدا تعالی کی راہ میں خدمت شروع کی اور آپ ایک بے نفس انسان تھے اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے جینا کہ میں نے بتایا ہے دس سال کی عمر میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے نشان دیکھے اور پھر ساری عمر دیکھتی رہیں۔کب سے دیکھنے شروع کئے اس کا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے