حیاتِ خالد — Page 624
حیات خاند 619 آخری ایام رحمانیت کے نتیجہ میں اپنی بے کسی کا احساس ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں، ہم اسی وقت کچھ بنتے ہیں کہ جب خدا تعالی جو بغیر عمل اور استحقاق کے اپنی رحمت سے نواز نے والا ہے اپنی رحمت سے نواز دے۔اس لحاظ سے ہمارے زندہ رہنے والے بزرگ بھی اور ہمارے جانے والے بھائی بھی اور بہنیں بھی اور بزرگ مائیں اور پھوپھیاں بھی (جو بھی جسمانی اور روحانی رشتے ہم ان سے رکھتے ہیں ) ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں وہ ہمارے لئے پرستش کی جگہ نہیں بنتے۔محترمہ پھوپھی جان حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے جب آپ کی عمر کم و بیش دس سال تھی اس وقت لکھا کہ میری یہ بچی بہت خواہیں دیکھتی ہے اور کثرت سے وہ خواہیں بھی نکلتی ہیں۔اب آپ خود سوچیں کہ یہ رحمانیت ہی کا جلوہ ہے نا۔ایک ایسی بچی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت ہے جس پر شاید ابھی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی اور روزے تو فرض ہی نہیں ہوئے حج کا سوال ہی نہیں اور زکوۃ کا بھی کوئی سوال نہیں اور خدا تعالیٰ کا اس سے سلوک یہ ہے کہ وہ کثرت سے اسے اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے اور رویائے صادقہ سے نوازتا ہے۔میں نے سوچا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ کثرت سے خوا ہیں بچی نکلتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ خواہیں ، کثرت سے نہیں بلکہ قلت سے ، ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو بچپنے کے خیالات کی وجہ سے آ جاتی ہیں لیکن خدائے رحمن کا یہ جلوہ کس عبادت کے نتیجہ میں ہے، کس قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اپنا یہ جلوہ دکھایا کہ اس عمر میں کثرت سے کچی خوابیں دیکھنے والی بن گئیں اور پھر ساری عمر خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پیار اور محبت اور فضل اور رحمت کا سلوک کیا اور انہوں نے کبھی بھی ان چیزوں کو اپنی کسی خوبی کا نتیجہ نہیں سمجھا بلکہ خدا تعالیٰ کے ہر فضل کے بعد جو احساس ان کے دل میں پیدا ہوا وہ یہی تھا کہ یہ میری کسی خوبی کا نتیجہ نہیں محض خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔میں ہر دو کے متعلق بات کر رہا ہوں یعنی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ابو العطاء صاحب کے متعلق۔ان کے رونگٹے رونگٹے سے یہ آواز نکلی کہ لا فَخُرَ اپنی طرف سے کوئی چیز ہو تو آدمی فخر بھی کرتا ہے کہ میں نے یہ کیا اس واسطے مجھے اس پر فخر ہے۔لیکن جب یہ ہو کہ میں نے کچھ نہیں کیا تھا اور خدا نے اپنا فضل کر دیا تو پھر فخر کس بات کا۔اس کے متعلق تو نبی اکرم یا اللہ کا بڑا ز بر دست اسوہ ہے۔بہت کی حدیثوں میں آتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ دیا ولا فخر خدا نے مجھ پر یہ عطا کی وَلَا فَخْرَ خدا تعالیٰ نے