حیاتِ خالد — Page 621
حیات خالد 616 آخری ایام پس جماعت کا اس موقع پر اولین فرض ہے کہ وہ اس ترقی کے مقام میں ہر گز کمی نہ آنے دے جس پر وہ اس وقت خدا کے فضل سے پہنچ چکی ہے۔۲۔میں جماعت کے نوجوانوں کو بڑے درد دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے تیاری کریں اور اپنے دل میں ایسا عشق اور خدمت دین کا ایسا ولولہ پیدا کریں کہ نہ صرف جماعت میں کوئی خلا نہ پیدا ہو بلکہ ہمارے آقا محمد مصطفی ملے کے قدموں کے طفیل جماعت کی آخرت اس کی اولیٰ سے بھی بہتر ہو۔(اداریہ۔روزنامه الفضل ربوه ۳۱ رمئی ۱۹۷۷ء)۔حضرت خلیفہ اصبح الثالث کا خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی وفات کے بعد ۱۰ جون ۱۹۷۷ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اس سے پہلے جو جمعہ ۳ جون ۱۹۷۷ء کو آیا اس روز حضور نا سازی طبع کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے تھے۔۱۰ جون کے خطبہ میں حضور نے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کو ایک غیر معمولی اعزاز یوں عطا فرمایا کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پاکیزہ اور فرشتوں کی سی خصلت رکھنے والی شخصیت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا تذکرہ بھی فرمایا۔یہ دونوں بزرگ وجود چند دن کے فرق سے فوت ہوئے تھے۔حضرت مولانا کو یہ اعزاز ان کی مادی زندگی ختم ہونے کے فوراً بعد اور روحانی زندگی شروع ہونے کے ساتھ ہی ملا۔اس طرح سے گویا حضرت مولانا کے بلند روحانی مقام اور عظیم الشان خدمات دینیہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مہر تصدیق ثبت فرما دی۔الحمد للہ ثم الحمد للہ حضرت خلیفہ اسح الثالث نے اپنے خطبے میں دونوں بزرگ اور مقدس ہستیوں کا ذکر اس طرح مشتر کہ رنگ میں کیا ہے کہ ایک کا ذکر دوسری ہستی سے جدا کرنا ممکن نہیں۔اس اعتبار سے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا یہ سارا خطبہ ہی اس شان کا حامل ہے کہ اسے من وعن درج کر دیا جائے۔یہ خطبہ الفضل كایة کی ۲۹ جون ۱۹۷۷ ء کی اشاعت میں یعنی حضرت مولانا کی وفات کے ایک ماہ بعد شائع ہوا۔الفضل نے جو سرخیاں قائم کی ہیں انہی کو قائم رکھتے ہوئے مکمل خطبہ پیش خدمت ہے۔