حیاتِ خالد — Page 619
حیات خالد 614 آخری ایام حضرت مولانا صاحب مرحوم سلسلہ عالیہ احمدیہ کے صف اول کے ابتدائی جید و متبحر اور خدا رسیده و برگزیدہ علماء کے نقش قدم پر چلنے والے ان نامور عالموں ، ممتاز خادموں اور بزرگ ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کر کے اور زندگی کے آخری سانس تک ولولہ عشق کے ماتحت مختلف النوع گراں بہا خدمات سرانجام دے کر خدمت و فدائیت کی نهایت درخشندہ مثال قائم کر دکھائی۔آپ نے ایک ممتاز خادم سلسلہ کی حیثیت سے اس دنیا میں زندگی گزاری اور اس حیثیت سے بفضل اللہ تعالیٰ بہت نام پیدا کیا۔پھر آپ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نہایت نامور بزرگ اسلاف کی پیروی میں قابل قدر خدمات کا شاندار ریکارڈ قائم کر کے ایک ممتاز خادم سلسلہ کی حیثیت میں ہی اس دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ آپ بھی اپنے بزرگ اسلاف کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں ہی حیات جاوید کے وارث قرار پائے اس لئے کہ آپ کی گراں قدر خدمات اور رفیع الشان کارناموں کا تذکرہ بھی آپ کی وفات کے بعد ہوتا رہے گا اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ان خدمات کے ذکر جمیل کو بھی قیامت تک محفوظ رکھے گی اور وہ صف اول کے برگزیدہ اسلاف کی طرح آپ کی یاد پر بھی محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کرتی چلی جائیں گی۔آپ ایک بیباک اور نڈر مبلغ و مناظر، ایک دل موہ لینے والے فصیح البیان مقرر، ایک بلند پایہ مصنف و مقالہ نگار، ایک کہنہ مشق اور نامور صحافی ، سلسلہ احمدیہ کے نوجوان علماء کے شفیق استاد، لاکھوں افراد جماعت کے محسن و مربی۔گونہ گوں حیثیتوں میں انتظامی صلاحیتوں کا حسب استعداد بھر پور مظاہرہ کرنے والے ایک لائق منتظم و منصرم اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک زاہد شب زندہ دار، دعاؤں اور ذکر الہی میں مشغول رہنے والے، صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے۔جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے ، انشاء اللہ العزیز سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بزرگ اسلاف کی طرح آپ کی زندگی بھی، آپ کا جذبہ خدمت و فدائیت بھی اور آپ کے کارنامے بھی آنے والوں کے لئے ایک روشن مثال اور مشعل راہ ثابت ہوں گے۔آپ کے ان بلند پایہ اوصاف اور خدمات کی وجہ سے جماعت میں سب ہی آپ کو از راہ محبت سر آنکھوں پر بٹھانے اور آپ کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرنے کو موجب سعادت سمجھتے تھے۔وہ کیوں نہ ایسا سمجھتے جب کہ آپ بفضل اللہ تعالی ان خوش نصیب خدام سلسلہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالٰی نے ان کے اخلاص اور جذ بہ خدمت و فدائیت کی وجہ سے اسی دنیا میں قبولیت کے شرف سے نوازا۔اور یہ امر تو