حیاتِ خالد — Page 618
حیات خالد 613 آخری ایام سڑک اُن سے بھری تھی۔مردوں کا بھی یہی حال تھا بعض تو چہرہ بھی نہ دیکھ سکے۔لائبریری کو ٹھنڈا کر کے وہاں رکھا گیا تھا اور باری باری مرد اور عورتیں چہرہ کی زیارت کرتے تھے۔بیٹھک اور لائبریری کے سامنے پردہ لگا دیا گیا تھا۔جنازہ میں تقریبا چار ہزار لوگ شامل ہوئے۔حضور نے چہرو دیکھا ، جنازہ پڑھایا اور کندھا بھی دیا پھر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے مرزا عبد الحق صاحب کو دعا کروانے کی ہدایت فرما دی۔ایک دن پہلے اپنا وصیت کا حساب صاف کیا۔اسی طرح خالہ جان کا حساب صاف کر کے اس کا سرٹیفیکیٹ لیا۔یہ سب چیزیں آپ کے بیگ سے بعد میں ملیں۔پہلے بالکل ذکر نہیں کیا۔اسی طرح چند دن پہلے مکان کی قیمت لگوائی اور ایک کاغذ پر حساب کیا ہوا ملا ہے۔جس میں خالہ جان ، سب بیٹے ، بیٹیوں کے علیحدہ علیحدہ تقسیم کر کے حصے نکالے ہوئے ہیں۔خالو جان کے چار بیٹے ہوتے ہوئے بھی وفات کے وقت کوئی بھی پاس نہ تھا۔دو جہاد میں مصروف اور دو اپنے فرائض کی ادائیگی میں۔یہ بھی ان کی عظیم قربانی تھی۔اللہ تعالی اس کی بہترین جزا دے۔آمین روز نامہ الفضل کا اداریہ روز نامہ الفضل نے اس مئی کی اشاعت میں ہی حضرت مولانا کی وفات پر ادار یہ بھی لکھا۔جو ذیل میں درج ہے۔ایک نامور اور بزرگ خادم سلسلہ کی رحلت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ۲۹ اور ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ ء کی درمیانی شب بقضائے الہی ۳ ۷ سال کی عمر میں وفات پا کر ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اس جدائی پر آج ہمارے دل مغموم و محزون ہیں لیکن ہم مولائے حقیقی کی رضا پر راضی ہیں اور حضرت مولانا مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ( کہ آپ بھی زندگی بھر ہمیں اسی کا درس دیتے رہے ) اس اندوہناک سانحہ پر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک الفاظ میں یہی کہتے ہیں کہ " بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر