حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 607 of 923

حیاتِ خالد — Page 607

حیات خالد 602 آخری ایام وقت بخار اور کھانسی کے باعث آپ صاحب فراش تھے لیکن آپ نے دفتر سے رخصت نہ لی۔یہ دن آپ کی زندگی میں خدمت دین کا آخری دن تھا۔وفات اگلے دن اتوار کو خون کی الٹیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کے باعث رات سوا ایک بجے جبکہ سوموار کا دن اور ۳۰ مئی کی تاریخ شروع ہو چکی تھی آپ اپنے مولا کریم کے حضور حاضر ہوگئے - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۳ ۷ سال تھی۔آپ کی وفات اور تدفین کی خبر میں روز نامہ الفضل نے نہایت تفصیل سے شائع کیں۔یہ ساری تفاصیل الفصل ہی سے پیش کی جاتی ہیں۔الفضل ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء میں پہلے صفحے پر سب سے نمایاں خبر کے طور پر سیاہ حاشیہ کے ساتھ وفات کی خبر دی گئی جو ذیل میں درج ہے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نہایت ممتاز بزرگ، جید اور تبحر عالم اور اسلام کے نامور مبلغ ومجاہد خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب انتقال فرما گئے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ربوه / ۳۰ ہجرت ۱۳۵۶ ہش (۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء) دلی حزن و ملال اور نہایت غم واندوہ کے ساتھ یہ المناک اطلاع ہم احباب جماعت تک پہنچاتے ہیں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نہایت ممتاز خادم اور بزرگ، اسلام کے نامور مبلغ و مجاہد اور دینی علوم کے جید اور قبحر عالم، خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ۳۰،۲۹ رگی کی درمیانی شب کو ایک بجے سے سال کی عمر میں وفات پا کر محبوب حقیقی سے جاملے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ - نماز جنازہ آج مورخہ ۳۰ رمئی کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک سے ملحق مشرقی احاطہ میں ادا کی جائے گی۔جنازہ حضرت مولوی صاحب کے مکان واقع محلہ دار الرحمت وسطی سے ساڑھے چھ بجے اٹھایا جائے گا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب یوں تو گزشتہ چند ماہ سے کھانسی اور بخار کی وجہ سے متواتر بیمار چلے آتے تھے لیکن چند دنوں سے کچھ افاقہ محسوس فرماتے تھے۔چنانچہ ہفتہ کے روز صبح کو حسب معمول سیر کے لئے بھی تشریف لے گئے اور پھر دفتر جا کر بھی اہم امور سر انجام دیئے۔اسی دن رات کو طبیعت پھر زیادہ ناساز ہوگئی اتوار کو اچانک کئی بار خون کی قے آئی جس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے۔ہر ممکن