حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 584 of 923

حیاتِ خالد — Page 584

حیات خالد 578 ذاتی حالات ایمبولینس کار میں عزیزہ کو لاہور پہنچایا گیا۔۲۴۔کو اپریشن تھا اور بظاہر اچھا ہو گیا مگر تقدیر غالب آئی اور ۲۶ ستمبر کو عزیزہ امتہ اللہ خورشید اپنے ارحم الراحمین خدا کی وسیع تر رحمتوں سے حصہ پانے کے لئے مرحومہ ہو گئی۔رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا۔عزیزہ کی شادی میرے شاگرد مکرم حکیم خورشید احمد صاحب شاد مولوی فاضل سے ۱۹۴۵ء میں حضرت محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی تحریک سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میاں بیوی میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا جس کا احساس ماحول کی وجہ سے بعض دفعہ خاص طور پر عزیزہ کو ہوتا تھا۔بہر حال مشیت ایزدی اسی طرح تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی دینی خدمات ایسی ہیں کہ جماعت احمدیہ میں ہمیشہ امتہ اللہ مدیرہ مصباح کا ذکر خیر ہوتا رہے گا انشاء اللہ۔ابھی زخم بہت تازہ ہے اس لئے اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔آکند و نمبر میں تعزیت نامے بھیجے والے بھائی بہنوں کے تذکرہ کے ساتھ ذرا تفصیل سے حالات درج کروں گا۔انشاء اللہ۔ہاں اتنا اعلان کر دیتا ہوں کہ عزیزہ امتہ اللہ مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے میں عزیزہ کے بعض رشتہ داروں کے اشتراک سے امتہ اللہ خورشید یادگاری فنڈ قائم کر رہا ہوں جس سے میری زندگی تک ایک غریب بچی اور ایک غریب بچے کو پانچ پانچ روپے کا امدادی تعلیمی وظیفہ دیا جاتا رہے گا انشاء اللہ۔اور طبقہ نسواں کیلئے مفید لٹریچر بھی شائع ہوتا رہے گا۔وباللہ التوفیق۔۱۰ / اکتوبر ۱۹۶۰ء خاکسار ابو العطاء جالندھری (الفرقان - اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۷ - ۴۸) محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ مدیرہ مصباح کی المناک وفات کو واقعی ایک جماعتی صدمہ سمجھا گیا اور ساری جماعت نے اس پر اپنے جذبات الم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مولانا سے تعزیت کی۔حضرت مولانا نے ان محبین کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے فرمایا :- میری بیٹی عزیزہ امتہ اللہ خورشید مدیرہ مصباح کا انتقال پر ملال ۲۶ ستمبر ۱۹۶۰ء کو ہوا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ عزیزہ نے جس خلوص اور محبت سے احمدیت کی خدمت کی اس کی ایک جھلک ان صد ہا خطوط ، تاروں ، قرار دادوں، اور بے شمار پیغامات تعزیت سے عیاں ہے جو عزیزہ کی وفات پر بہنوں اور بھائیوں کی طرف سے موصول ہوئے۔عزیزہ کی وفات ایک جماعتی صدمہ کے طور پر محسوس کی گئی ہے۔