حیاتِ خالد — Page 562
حیات خالد 555 0 فروری ۱۹۴۵ء میں قائم ہونے والی مجلس مذہب و سائنس کے ایڈیشنل نائب صدر 0 0 0 ○ 0 0 ( تاریخ احمدیت جلده اصفحه ۶۴) ۱۹۴۷ء میں قادیان سے انخلا کے لئے مرکزی کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے۔تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۶۳ حاشیہ) بنیادی حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ پر غور و فکر کیلئے مقرر ہونے والی کمیٹی کے مبر (۱۹۵۰ء) تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحه ۲۹۹) الجزائری نمائندہ احتفال العلماء علامہ محمد بشیر الابراہیمی الجزائری کی ربوہ آمد کے موقعہ (۵ رمئی ۱۹۵۲ء) پر حضرت مولانا نے اہل ربوہ کی نمائندگی میں مقرر مہمان کو خوش آمدید کہا اور عربی میں تعارفی تقریر فرمائی۔جوابی تقریر کے آخر میں الجزائری نمائندہ نے کہا ” یہاں میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا کیونکہ کثرت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو عربی زبان مادری زبان کی طرح بول سکتے ہیں۔تاریخ احمدیت جلد ۱۵ صفحه ۱۱۹ - ۱۲۰) احمد نگر جماعت کے صدر اور پرنسپل جامعہ احمدیہ کے طور پر ۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران ( تاریخ احمدیت جلد ۱۶ صفحه ۱۳۱ ۱۳۲، ۱۳۶) نمایاں جماعتی خدمات ۱۹۵۳ء میں فسادات پنجاب کی تحقیقات کے سلسلہ میں دینی وعلمی حوالہ جات و تبصرہ جات کے سلسلہ میں خدمات تاریخ احمدیت جلد ۱۶ صفحه ۳۰۳) ۲۸ فروری ۱۹۵۳ء سے حضرت مصلح موعودؓ نے۔ذرہ مریم کے درس کا آغاز کیا۔حضرت مولانا نے اس درس کے نوٹس لکھے جو الفرقان، الفضل اور بدر میں شائع ہوئے۔( تاریخ احمدیت جلد ۱۶ صفحه ۱۹۲) ۱۰/ مارچ ۱۹۵۴ء کو حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ حملہ ہوا۔اس سانحہ کی تفصیل حضرت مولانا کے الفاظ میں الفضل میں شائع ہوئی۔حضرت مولانا کے کوٹ، پاجامہ اور پگڑی پر بھی پاک خون کے قطرات پڑے۔حملہ کے بعد حضرت مولانا نے حضرت مصلح موعود کو قصر خلافت جاتے وقت سہارا دیا۔تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۲۳۰) جامعة المهشرین کی پختہ عمارت کی بنیاد میں حضرت مولانا نے بھی ایک اینٹ رکھی۔تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۴۱۸) ۲۵ / اگست ۱۹۵۴ء