حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 520 of 923

حیاتِ خالد — Page 520

حیات خالد 511 مضمون نویسی چھٹی صدی مسیحی کا آخر تھا۔طاغوتی طاقتیں دنیا پر حکمران تھیں۔الحاد بے دینی جور و استبداد اور وحشت و بر بریت کا دور دورہ تھا۔چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی تھی۔روشنی کا نام ونشان نہ تھا۔آفتاب حقیقت مدتوں سے اوجھل تھا۔میری روح اضطراب و بیقراری کی حالت میں فضاؤں اور بلندیوں سے پرواز کرتی ہوئی عالم بالا پر جا پہنچی میں نے وہاں سے جھانک کر زمین پر نگاہ کی۔ہر طرف یاس وحسرت کا عالم تھا۔میں نے دنیا کے براعظموں کو دیکھا۔میں نے جزائر پر نظر دوڑائی میں نے خشکی اور تری کو جانچا۔ہر جگہ فساد ہی فساد تھا۔تباہی اور بربادی اثر دہا کی مانند منہ کھولے کھڑی تھی آبادیاں خطرے میں تھیں۔انسانوں کے لئے ہولناک دن دروازے پر تھے اور آفات کی گھڑیاں سر پر تھیں۔میری روح اس مہیب اور پر رعب منظر کے تصور سے کانپ اٹھی۔میری نظر مادیات سے ورے تک جا پہنچی۔میں نے انسانی قلوب کو دنیا ہاں فانی دنیا کی محبت سے لبریز پایا وہاں مٹ جانے والے مال، فنا ہو جانے والے حسن اور زائل ہو جانے والی جاہ و حشمت کے لئے جگہ تھی۔وہاں پر خود تراشیدہ بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا مقام تھا۔لیکن آہ انسان کے دل میں خالق کون و مکاں کے لئے جگہ نہ تھی۔خدا کے اس عرش پر شیطان اور اس کی ذریت نے قبضہ کر رکھا تھا۔اور انسانی گردنوں کو ، پتھروں، درختوں، رینگنے والے جانوروں، چوپایوں اور انسانوں کے سامنے جھکا رکھا تھا۔یونانیوں کی یہی حالت تھی۔مصری اسی آفت کا شکار ہورہے تھے۔ہندوستانی بھی تاریکیوں کے اسی اتھاہ گڑھے میں غوطے کھاتے تھے۔میں نے کہا۔چلو دنیا کی دیگر اقوام پر نظر ڈالیں۔مگر افسوس کہ جوں جوں میری نظر آگے بڑھتی گئی میری حسرت میں اضافہ ہوتا گیا اور میری مایوسی زیادہ ہوتی گئی۔دنیا کیا تھی۔آگ کا تنور تھی۔انسانی زندگی کیا تھی حیوانیت وہیمیت کا کامل مرقع تھی۔مجھے انسانیت سے گھن آنے لگی۔اور انسانوں کے ناپاک افعال کی ہونے مجھے بے حد اذیت پہنچائی۔میں نے اپنا چہرہ چھپا لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔پھر میں نے چند لمحوں کے بعد عالم بالا کے فرشتوں میں ایک شور محسوس کیا۔میں نے انہیں کنکھیوں سے دیکھنا شروع کیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی غیر معمولی تغیر ہونے والا ہے۔اور شاید دنیا ، نا پاک دنیا کے لئے وہ آخری ساعت آ پہنچی ہے جس سے سب مقدس ڈراتے آئے ہیں۔مجھ پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور قریب تھا کہ میں ہوش وحواس کھو بیٹھتا کہ میرے پاس سے ایک تیز رو فرشتہ پانی کا مشکیزہ اٹھائے گذرا۔میں نے اس سے بصد منت و سماجت دھیمی سی آواز میں کہا۔