حیاتِ خالد — Page 51
حیات خالد 54 ولادت انگرین اور تعلیم اقصی کے بالکل قریب تھا پہنچا اور کمبل اوڑھے اور منہ چھپائے مضمون انہیں دے کر فورا بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کی طرف روانہ ہو گیا۔میری حیرت اور خوشی کی حد نہ رہی جب اگلے ہفتے میرا پہلا مضمون بعنوان ”اسلام اور تلوار بطور مقاله افتتاحیه اخبار نور میں چھپا ہوا نظر آیا۔اس کے اوپر جناب ایڈیٹر صاحب نے خوشکن ریمارک دیئے اور لکھا کہ اگر عزیز نے مضمون نویسی کی مشق جاری رکھی تو کسی دن بہت اچھے مضمون نگار بن جائیں گے۔مجھے یاد ہے کہ اس مضمون کے شائع ہونے پر مولا نائس صاحب نے میری چارپائی کے پاس سے گزرتے وقت حسب عادت مسکراتے ہوئے از راہ مذاق کہا تھا کہ اچھا اب تو مضمون بھی چھپنے شروع ہو گئے ہیں؟ اس کے چند روز بعد میں نے دوسرا مضمون فرشتوں کے متعلق لکھا تھا جو اخیار الحکم میں جناب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم نے شائع فرمایا۔یہ میری مضمون نویسی کا آغاز ہے۔اس کے بعد تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جملہ اخبارات ورسائل میں مضمون لکھنے کی توفیق ملتی رہی۔بہر حال میری مضمون نویسی میں جہاں میرے محترم اساتذہ بالخصوص حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی رہنمائی کا دخل ہے وہاں پر میں اس کیلئے حضرت قاضی اکمل صاحب کا بھی بہت ممنون ہوں۔وہ مدیران جرائد میں منفر د وجود تھے جو نئے لکھنے والوں کی خاصی امداد فرماتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں اور اساتذہ پر اپنی خاص برکات نازل فرمائے۔آمین۔(الفرقان اپریل ۱۹۶۸ء صفحه ۹ تا ۱۲) مضمون نویسی کے بارہ میں حضرت مولانا نے خود اپنی قلم سے دو بار اظہار خیال فرمایا ہے۔دوسرے نوٹ میں بعض بنیادی امور کے اعادہ کے ساتھ ساتھ بعض دلچسپ تفاصیل بھی شامل ہیں۔لہذا یہ دوسرا نوٹ بھی اس جگہ درج کیا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا : - وو قادیان اور مدرسہ احمدیہ کی روحانی و علمی فضا د مینیات کے طالب علموں کیلئے سونے پر سہا گہ کا حکم رکھتی تھی۔میں جب دیکھتا تھا کہ مدرسہ کی اوپر کی جماعتوں کے طلبہ اور مدرسہ کے اساتذہ کے مضامین اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں تو مجھے اپنی بچپن کی سادگی اور وفور شوق سے بار ہا خیال آتا تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہمارے مضمون لکھنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی یہ لوگ سب مضامین ختم کر دیں گے اور ہمارے لکھنے کیلئے کوئی مضمون باقی نہ رہے گا۔یہ احساس مدرسہ کی پہلی اور دوسری جماعت کے زمانہ میں میرے دل میں پیدا ہوا کرتا تھا۔مجھے یہ یاد نہیں کہ یہ صورت کس طرح پیدا ہوئی مگر ہوا یہی ا