حیاتِ خالد — Page 48
حیات خالد 51 ولادت بچپن اور تعلیم کا سپاہی بنانے میں دن رات مصروف تھے۔اس کا تذکرہ حضرت مولانا نے ”حیاۃ ابی العطا میری زندگی ، چند منتشر یا دیں قسط نمبر ۳ میں یوں فرمایا ہے۔قادیان میں سڑوعہ اور گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور کے چند مخلص قادیان میں ہم وطن بزرگ بزرگ موجود تھے۔ان میں سے محترم جناب چوہدری نو راحمد خان صاحب کلرک مہمان خانہ، چوہدری فضل احمد صاحب ٹیچر ہائی سکول اور چوہدری برکت علی خان صاحب (وکیل المال ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اول الذکر دونوں بزرگ سروعہ کے باشندے تھے اور چوہدری برکت علی خان گڑھ شنکر کے رہنے والے تھے۔ان کا راجپوت برادری کا بھی یا ہم تعلق تھا مگر احمدیت کا رشتہ مضبوط تر تھا۔میرے نہال سڑوعہ میں تھے۔چوہدری فضل احمد خان صاحب میرے ماموں ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب آف سٹروعہ کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ابتدائی ایام میں جب میں ماں باپ کی پہلی جدائی پر بہت اداس رہتا تھا تو ان بزرگوں کی ملاقات میرے لئے ہر طرح وجہ تسلی ہوا کرتی تھی۔محترم چوہدری فضل احمد صاحب کے حضرت میرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی نہایت اچھے روابط تھے۔بہر حال اجنبیت کے باعث اور بچپن کی وجہ سے جو اداسی ہوئی تھی وہ ان بزرگوں کے باعث کم ہوتی گئی۔ابتدائی تین ماہ تو پریشانی میں ہی گزر گئے۔پھر آہستہ آہستہ پڑھائی کی طرف پوری توجہ ہو گئی۔الحمد للہ کہ میں مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت سے اچھے نمبروں پر پاس ہو گیا۔کر یام میں پہلی تقریر پہلے سال ی موسم گرما کی تعطیلات میں جب میں گھر آیا تو معہ کے روز کریام حسب دستور اپنے والد صاحب مرحوم کے ساتھ نماز جمعہ کیلئے کریام گیا۔کر یام میں اچھی خاصی جماعت تھی۔جماعت کے امیر حضرت حاجی غلام احمد صاحب فرشته خصلت انسان تھے نہایت خوشی سے ملے اور فوراً کھانے وغیرہ کا اہتمام فرمایا۔جمعہ کی نماز کے بعد سب دوستوں کو آپ نے ٹھہرایا اور فرمایا کہ قادیان شریف سے تین طالب علم آئے ہیں ہم ان سے کچھ سنیں گے۔پہلے انہوں نے دوسرے دو طلبہ سے جو کئی سال سے ہائی سکول میں پڑھتے تھے کہا کہ اٹھ کر کچھ تقریر کرو مگر ان دونوں نے معذرت کی اور اس کیلئے بالکل تیار نہ ہوئے۔آخر میں انہوں نے مجھے فرمایا میں اگر چہ سب سے چھوٹا تھا اور میرا یہ پہلا سال تھا اور تقریر کا بھی پہلا موقعہ تھا میں کھڑا ہو گیا اور میں نے چند منٹ تقریر کی۔مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے اس وقت کیا تقریر کی تھی مگر اتنا