حیاتِ خالد — Page 45
حیات خالد 48 ولادت، اولین اور تعلیم تھا۔اس زمانہ میں ایک روز حاجی غلام احمد صاحب کر یام ضلع جالندھر اور میاں امام الدین صاحب مولوی ابو العطا ء صاحب کو مدرسہ میں داخل کروانے کیلئے لائے۔اس وقت میں مدرسے کے کچھے کمروں میں سے ایک کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔حاجی صاحب نے انہیں مدرسہ میں داخل کرنے کی سفارش کی اور میں نے انہیں داخل کر لیا۔میں جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ پھل خدا کے فضل سے شیریں ثابت ہوا اور آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو خدمت دین کی توفیق دی۔(الفضل ربوه ۵ دسمبر ۱۹۶۱ء) مدرسہ کے ابتدائی ایام حضرت مولانا کے اپنے الفاظ میں:- حضرت والد صاحب مرحوم مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروانے کے چند روز بعد گاؤں واپس تشریف لے گئے۔شروع میں میں کچھ عرصہ مہمانخانہ میں رہا اور پھر بورڈنگ میں داخل ہو گیا۔میں چونکہ مدرسہ میں قریباً ایک ماہ بعد آیا تھا اس لئے طبعی طور پر ساتھیوں سے پیچھے تھا نیز گھر سے دوری کے باعث اداس بھی تھا اس لئے ابتداء میں مجھے دقت پیش آتی رہی۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ء صفحه ۴۲ ۴۳) مولانا کو ابتداء ہی سے کتنی کڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے اسے کس قدر ہمت اور عزم سے برداشت کیا ؟ یہ ایک دلکش داستان ہے۔بارہ سال کا ایک بچہ جو زندگی میں پہلی بار اپنے گاؤں سے باہر نکالا ہو، اس کے عزم و حو صلے کو بے اختیار دارد نیا پڑتی ہے۔حضرت مولانا کے بر اور اصغر مولوی عنایت اللہ صاحب اس کی کسی قدر تفصیل بیان کرتے ہیں۔بھائی جان ( یعنی حضرت مولانا ) مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل ہو گئے۔گاؤں میں ہمیشہ جماعت میں اول رہتے تھے۔مگر یہاں آکر ان کو عربی پڑھنی پڑی جو وہاں نہ ہوتی تھی اور پھر آئے بھی دیر سے تھے۔لہذا وہ جماعت میں کامیاب نہ ہو سکے جس کی وجہ سے وظیفہ بھی کٹ گیا اور بورڈنگ کی رہائش بھی نہ ہو سکی۔ہمارے بھائی نے دو ماہ مسجد میں گزارے۔دو روپے ان کے پاس تھے جن سے روزانہ چنے کھا کر یہ وقت گزارا۔حتی کہ آئندہ سہ ماہی امتحان میں اچھے نمبر لئے جس سے وظیفہ پھر جاری ہو گیا۔تب والد صاحب کو اطلاع دی اور لکھا کہ آپ فکر نہ کریں آپ نے مجھے پڑھنے کیلئے بھیجا ہے لہذا پڑھ کر ہی واپس آؤں گا۔اس سے پہلے اطلاع میں نے اس لئے نہ دی کہ آپ کو