حیاتِ خالد — Page 449
حیات خالد 445 ماہنامہ الفرقان مسائل کے حل کیلئے ایک عظیم الشان مجموعہ ہے۔اس تقریر اور بعد ازاں تحریر میں بڑی گہرائی اور گیرائی میں جا کر عقلی و نقلی طور پر شیعہ ازم پر بحث موجود ہے اس لحاظ سے یہ شمارہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔حضرت میر محمد اسحق صاحب بھی حضرت میر محمد اسحاق نمبر ( ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء) حضرت مولانا کے استاد تھے۔اس شمارے میں حضرت میر صاحب کی خدمات کا ذکر ہے کہ انہوں نے کس لگن کے ساتھ جماعت میں علمی و عملی ہر دورنگ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خدمات پیش کر رکھی تھیں۔اس ذکر خیر میں ۴۴ نشری مضامین اور سے منظوم کلام شامل ہیں۔مضامین کی اکثریت ۲ سے ۳ صفحات پر مشتمل ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا منشاء یہ تھا کہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ لکھنے والوں کے مضامین اس میں شامل ہو جا ئیں۔لہذا اس طریق سے ایک تو جماعت کی اس محبت اور عقیدت کا علم ہوتا ہے جو جماعت کو ان بزرگان سے ہوتی ہے اور دوسرے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے خیالات سے استفادہ کی ایک صورت نکل آتی ہے اور یہ پالیسی محترم مولانا ابو العطاء صاحب کی بہترین اور کامیاب رہی ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب یوں تو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے استاد تھے۔لہذا شاگرد نے حق شاگردی ادا کیا اور یہ نمبر شائع کیا لیکن فی الحقیقت مولانا نے یہ نمبر شائع کر کے ( جو حضرت میر صاحب کی وفات کے قریباً بیس برس بعد شائع ہوا ) جماعت احمد یہ پر ایک غیر معمولی احسان کیا کہ ان کی محبوب یاد پھر سے تازہ ہوگئی۔ورنہ اس عظیم شخصیت کی زبر دست زندگی کے اتنے ایمان افروز پہلو عوام الناس کے سامنے نہ آ سکتے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو اس امر کا بخوبی احساس تھا سمس نمبر ( جنوری ۱۹۶۸ء) کہ جماعت کے اولین بزرگان کی تعداد دن بدن کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔لہذا مولانا صاحب نے بعض بزرگوں کے بارے میں خاص نمبر شائع کر کے اس بات کا انتظام فرما دیا اور اسی کے پیش نظر شمس نمبر ہماری آنکھوں کے سامنے آیا۔یہ جنوری ۱۹۶۸ء کا شمارہ ہے۔امختلف مضامین میں تقسیم شدہ یہ سوانحی خاکہ حضرت مولانا کی زیرک طبیعت کا آئینہ دار ہے اور حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کی زندگی پر خوب جامعیت سے روشنی ڈالنے والا ہے۔عیسائیت نمبر (اکتوبر نومبر ۱۹۶۲ء) ۱۰۰ صفحات پرمشتمل یہ عظیم الشان شمار اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح مولانا کے ذہن میں یکسر الصلیب