حیاتِ خالد — Page 442
حیات خالد 438 ماہنامہ الفرقان ہوتی تھی۔آپ کے مضامین بھی شائع ہوتے اور عموماً ایک دو شمارہ جات کے بعد تفصیلی مضمون بھی نظر آجاتا اور مولانا کا تجر علمی، علم و مرتبہ اور قوت تحریر و تقریر بہت زبر دست تھی۔منشی نور الدین صاحب کا تب الفرقان کا کہنا ہے کہ : - اکثر اوقات مولا نا میرے پاس بیٹھے بیٹھے مضمون لکھ لیتے اور تفسیری نوٹ بھی فی البدیہہ لکھ دیتے تھے۔حضرت مولانا کی ذات جامع الصفات تھی۔آپ کے پاس نہ صرف گہرا اور ٹھوس علم تھا بلکہ ساتھ ساتھ اس علم کے تجزیہ اور استناد کی صلاحیتیں بھی موجود تھیں اور ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کو اللہ تعالیٰ نے قلم اور تقریر وتحریر کی صلاحیتیں بھی عطا فرمائی تھیں۔چنانچہ ساری عمر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ مضامین رسائل واخبارات میں جاری رکھا اور خود الفضل اور دیگر جماعتی رسائل الحکم، البدر، نور اور دیگر اخبارات میں آئے دن ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے الفرقان میں بھی قریباً ہر ماہ مولانا موصوف کے مضامین شائع ہوتے رہے۔مضامین ہمیشہ گہری تحقیق پر مبنی ہوتے اور ٹھوس علم اپنے اندر رکھنے والے اور گہرے مطالعہ اور توجہ کا نتیجہ ہوتے تھے۔اس سے حضرت مولانا کی زبر دست قوت تحریر کی وسعت و ہمہ گیری کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب ۱۸۹۷ء میں پیدا حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ہوئے۔آپ فلالوجی یعنی علم لسانیات کے عالمی سطح پر مانے جانے والے ایک معروف سکالر تھے۔آپ نے عربی کے اُم الالسنہ ہونے کے نظریہ کو حقائق کی روشنی میں دنیا بھر کی مشہور اور غیر معروف تقریباً ۵۰ زبانوں کو عربی سے ماخوذ ثابت کر دکھایا۔اس علم کے حوالے سے آپ نے الفرقان میں بہت سے مضامین لکھے اور اپریل مئی ۱۹۵۶ء میں ام الالسنه نمبر “ کے نام سے پورا شمارہ بھی شائع کیا گیا۔آپ کے کئی مضامین خاص نمبر کے علاوہ بھی شائع ہوئے۔مثلاً ا تحقیق اثم الالسنه اکتوبر ۱۹۵۲ء فروری ۱۹۵۴ء مئی ۱۹۵۴ء۔لغوی اغلاط اور تحریفات اکتوبر ۱۹۶۰ء ۳۔سب سے پہلے عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے کا اعلان کس نے کیا ؟ ستمبر ۱۹۷ء۔الفاظ میں حکمت اور سبق اپریل ۱۹۷۲ ء