حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 441 of 923

حیاتِ خالد — Page 441

حیات خالد 437 ماہنامہ الفرقان حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد 71 ماہنامہ الفرقان کے مضمون نگاروں میں دوسرا اہم نام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع کا ہے۔آپ کے متعدد اہم اور قیمتی مضامین الفرقان میں شائع ہوئے ہر مضمون اپنی جگہ ایک قیمتی مقالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ کا انداز تحریر ایک خاص دلکشی اپنے اندر رکھتا ہے۔آپ کے بہت سے مضامین الفرقان میں شائع ہوتے رہے۔جن میں مارچ ۱۹۷۶ء کے الفرقان میں چھپنے والا ایک مفصل تبصرہ جس کا عنوان "رسالہ ربوہ سے تل ابیب تک پر ایک مفصل تبصرہ ہے ایک خصوصی مقالہ بھی آپ نے لکھا جو تین " قسطوں میں شائع ہوا۔اس کا عنوان تھا ” حوادث طبیعی یا عذاب الہی اور یہ تین قسطوں میں مندرجہ ذیل ترتیب سے شائع ہوا۔ا۔اکتوبر ۱۹۷۶ء پہلی قسط ۲ نومبر ۱۹۷۶ ء دوسری قسط ۳ اپریل ۱۹۷۷ء تیسری قسط علاوہ ازین عیسائیت کے موضوع پر ایک بہترین مقالہ موجودہ عیسائیت عقل کی کسوٹی پر الفرقان اکتوبر نومبر ۱۹۷۲ء میں شائع ہوا۔جس کے بارے میں تفصیل خاص نمبر کے عنوان کے تحت عیسائیت نمبر میں مل سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک مختصر مضمون جو قابل ذکر ہے وہ فضل عمر نمبر دسمبر ۱۹۶۵ء میں شائع ہوا۔یہ مضمون حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے بارے میں ہے۔جس میں آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی کے آخری لمحات کی عکس بندی کی ہے اور اس قدر موثر اور پر کشش الفاظ میں وہ نقشہ کھینچا ہے کہ بے اختیار آنسو آنکھوں میں تیرنے لگتے ہیں۔اور حضرت مصلح موعودؓ کے لئے دل سے دعا ئیں نکلتی ہیں اور دوسری طرف حضور رحمہ اللہ کی نازک خیالی کیلئے بھی۔علاوہ ازیں آپ کا منظوم کلام بھی الفرقان میں شائع ہوتا رہا ہے۔جن میں آپ کی ایک مشہور نعت وہ ہے جو نومبر، دسمبر ۱۹۷۶ء کے شمارہ میں شائع ہوئی۔اس نظم کا پہلا شعر یہ ہے کہ :- اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر شمع ظلمات وار آئی رحم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب رسالہ الفرقان کے بانی ، مالک اور مدیر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری خود بھی ”الفرقان" کے مستقل مضمون نگار تھے۔قریباً ہر شمارہ میں اداریہ اور شذرات کے عنوان سے آپ کی کوئی نہ کوئی تحریر شائع