حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 424 of 923

حیاتِ خالد — Page 424

حیات خالد 420 ماہنامہ الفرقان " دینے کیلئے اکثر اوقات خود جاتے اور پھر بڑی احتیاط سے اس کی پروف ریڈنگ کرتے۔کا پیاں تیار ہو جاتیں تو آپ رسالہ کی طباعت کروانے کیلئے احمد نگر سے بذریعہ بس سرگودھا جایا کرتے تھے۔طباعت میں ایک دن لگ جاتا۔رسالہ چھپوانے کے بعد آپ اسے بوریوں میں بند کروا کے واپس احمد نگر لاتے۔ہمیں وقت کا اندازہ ہوتا تھا کہ آپ کب واپس آئیں گے۔ہم بھائی اس وقت اڈہ پر موجود ہوتے۔بوریاں بس کی چھت سے اُتاری جائیں اور ہم سائیکل پر رکھ کر گھر لے آتے۔رسالہ کی ترسیل میں گھر کے سب افراد وقار عمل“ کی روح کے ساتھ شامل ہوتے۔ہماری والدہ محترمہ ایک دیگچی میں لئی تیار کرتیں اور ہم سب بہن بھائی مل کر ایک ایک رسالہ کو دوہرا کر کے اس پر وہ ریپر لگاتے جن پر خریداران کے پتہ جات پہلے سے لکھ لئے ہوتے تھے۔اس طرح اسی رات سارے رسالے پوسٹ کرنے کیلئے تیار ہو جاتے۔ڈاک کے ٹکٹ بھی سب پر لگا دیئے جاتے اور اگلی صبح ہم بھائی یہ بوریاں سائیکلوں پر رکھ کر ربوہ لے کر جاتے کیونکہ ان دنوں احمد نگر کے چھوٹے سے ڈاکخانہ سے ان کی ترسیل کی صورت ممکن نہ تھی۔عجیب پُر لطف دن تھے۔خاص طور پر رسالہ کے پوسٹ کرنے والا دن خوب مصروف دن ہوتا تھا۔ایک رسالہ کے روانہ ہونے کے بعد فورا ہی اگلے رسالہ کی تیاری کا کام شروع ہو جاتا تھا۔الحمد للہ کہ گھر کے سب چھوٹے بڑوں کو اس خدمت میں شمولیت کا موقع ملتا تھا۔مکرم منشی نورالدین صاحب خوشنویس جو ماہنامہ الفرقان کے پہلے پرچہ کی طباعت الفرقان کے کاتب رہے۔رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا نے ۱۹۵۱ء میں الفرقان کا اجراء فرمایا۔جس کا صرف پہلا شمارہ 3020 سائز پر شائع ہوا۔بعد میں مستقل طور پر یہ سائز 10520 ہو گیا۔ربوہ میں اس وقت پریس نہیں تھا۔رسالہ 8 سرگودھا میں خالد پریس سے شائع ہوتا تھا۔جب میں پہلے پرچہ کی کتابت کر کے فارغ ہو گیا اور ساری کا پیاں مکمل ہو گئیں تو مولانا نے فرمایا چلو سر گودھا خالد پر لیس اس کی طباعت کیلئے چلیں۔میں حضرت مولانا کے ساتھ سرگودھا گیا۔جب وہاں دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو مولانا نے نہایت عمدہ کھانا اعلیٰ ہوٹل سے خود بھی کھایا اور اپنے اس خادم کو بھی کھلایا۔حضرت مولانا رات گئے تک سرگودھا میں رہے۔معروفیت ایسی تھی کہ رات ہو گئی۔ربوہ واپس آنا بھی ضروری تھا۔بسوں کی آمد ورفت بند ہو چکی تھی۔اتفاق سے ایک سپیشل بس سرگودھا سے لائکپور ( حال فیصل آباد ) آنے کے لئے مل گئی اور اس پر میں اور مولانا ربوہ واپس پہنچے۔یہ واقعہ ابتدائی دنوں کا ہے اور میں نے اس لئے لکھ دیا ہے کہ یہ بیان کر