حیاتِ خالد — Page 423
حیات خالد 419 ماہنامہ الفرقان ماہنامہ الفرقان۔ایک یادگار اور تاریخی کارنامہ ماہنامہ الفرقان حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا ایک یادگار اور تاریخی کارنامہ ہے۔۲۶ سال تک آپ نے ذاتی کوششوں سے یہ ماہانہ رسالہ باقاعدگی سے شائع کیا جو اپنوں اور بیگانوں میں جماعت احمدیہ کی پہچان بن گیا۔اللہ تعالی کے فضل سے علمی حلقوں میں اس رسالے کی ایسی غیر معمولی قدرو منزالت تھی جو جماعت احمدیہ کے اخبارات و رسائل میں سے کم ہی کسی کو حاصل ہوئی ہے۔الفرقان کے اجراء کے بارے میں تاریخ احمدیت جلد نمبر ۱۵ صفحه نمبر ۳۴، ۳۵ پر الفرقان کا اجراء مولانا دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت رقم طراز ہیں۔وو وسط ۱۳۳۰ ہش ۱۹۵۱ء میں مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری سابق مبلغ بلا دعر بیه و پرنسپل جامعه احمدیہ نے رسالہ ” الفرقان“ جاری فرمایا۔۔اس رسالہ کے اولین مینیجر حضرت بابو فقیر علی صاحب ( والد ماجد مولانا نذیر احمد صاحب شہید افریقہ ) مقرر کئے گئے۔رسالہ کا پہلا شمارہ ستمبر ۱۹۵۱ء میں شائع ہوا۔رسالہ کا دفتر احمد نگر میں تھا جہاں حضرت مولانا قیام پذیر تھے۔چند سال بعد جب آپ نے ربوہ میں مستقل رہائش اختیار کر لی تو رسالہ الفرقان کا دفتر بھی ربوہ منتقل ہو گیا۔رسالہ الفرقان کے ابتدائی دنوں کا حال بہت دلچسپ ہے۔یہ تفصیل مکرم عطاء المجیب صاحب راشد کے الفاظ میں پیش ہے۔رسالہ الفرقان کا آغاز ستمبر ۱۹۵۱ء میں ہوا۔ان دنوں ہم احمد نگر میں رہتے تھے۔میں چھوٹی عمر کا تھا لیکن مجھے یاد ہے کہ گھر کا ایک کمرہ رسالہ کا دفتر ہوا کرتا تھا۔حضرت ابا جان کا یہ ذاتی رسالہ تھا۔اس کی ساری ذمہ داری، انتظامی ہو یا مالی، سب کی سب آپ کے ذمہ تھی۔رسالہ سے مالی منعفت حاصل کرنے کا تو ابا جان نے کبھی خیال تک نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس رسالہ کو جاری کرنے اور جاری رکھنے میں ہمیشہ ہی آپ کو اپنی جیب سے اخراجات کرنے پڑتے تھے اور آپ خوش تھے کہ خدمت دین کی یہ صورت اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہے۔مجھے یاد ہے کہ ابا جان رسالہ کے مضامین تیار کرنے میں بہت محنت فرماتے تھے۔خود بھی لکھتے ، دوسروں سے بھی لکھواتے ان کی درستی کرنے کے بعد کا تب کو