حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 401 of 923

حیاتِ خالد — Page 401

حیات خالد 394 اہم شخصیات سے ملاقاتیں نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر کیا ہے۔دوسرا ایک نامعلوم احمدی ہے۔مجھے ایک مرتبہ انبالہ چھاؤنی کے اسٹیشن پر گرفتار کر لیا گیا میں نے ادھر ادھر دیکھا مجھے ایک داڑھی والا مسلمان نظر آیا میں نے جھٹ جیب سے ہوا نکالا اور کلائی کی گھڑی اتاری اور اس شخص کو دے دی۔پولیس مجھے لے گئی۔کوئی چھ سات ماہ بعد جب میں رہا ہو کر گھر پہنچا تو ایک شخص آیا۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور میرے ہاتھ میں گھڑی اور بنوا دے دیا۔میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں اور کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں فلاں شہر سے ہوں اور میں احمدی ہوں۔آغا صاحب نے یہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر احمدیوں کے اخلاق کا بڑا اثر ہے۔ہماری یہ گفتگو صرف چند منٹ رہی۔حضرت سید میجر حبیب اللہ صاحب کا ذکر شورش کے قلم سے شورش صاحب نے اپنی کتاب ” پس دیوار زنداں میں سنٹرل جیل لاہور کے ذکر پر لکھا ہے:۔" مجھے یہاں (سنٹرل جیل لاہور میں ) تشدد و انتظام کے بھی مرحلوں سے گزار کر لایا گیا تھا۔اب مجھ پر کوئی سا تجربہ کرنا باقی نہ رہا تھا۔میجر حبیب اللہ شاہ صاحب کا سلوک بہر حال شریفانہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ وہ پکے قادیانی تھے۔ان کی ہمشیرہ مرزا بشیر الدین محمود (احمد صاحب) کے عقد میں تھیں۔قادیان کے ناظر امور عامہ سید زین العابدین ولی اللہ ان کے بڑے بھائی تھے۔انہیں یہ بھی علم تھا کہ میں آل انڈیا مجلس احرار کا جنرل سیکرٹری ہوں اور احرار قادیانیوں کے حریف ہیں بلکہ دونوں میں انتہائی عداوت ہے۔میجر حبیب اللہ شاہ نے اشارہ بھی اس کا احساس نہ ہونے دیا۔انہوں نے اخلاق و شرافت کی انتہا کر دی پہلے دن اپنے دفتر میں اس خوش دلی اور کشادہ قلبی سے مے گویا مدة العمر کے آشنا ہیں۔انہوں نے مجھے بیماروں میں رکھا اور اچھی سے اچھی دواو غذا دینا شروع کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ میری صحت کے بال و پر پیدا ہو گئے اور میں چند ہفتوں ہی میں تندرستی کی راہ پر آ گیا۔وہ بڑے صبور، انتہائی حلیم، بے حد خلیق اور غایت درجہ دیانتدار آفیسر تھے۔ان کے پہلو میں یقیناً ایک انسان کا دل تھا۔ان کی بہت سی خوبیوں نے انہیں سیاسی قیدیوں میں مقبول و محترم بنا دیا تھا۔پس دیوار زنداں صفحہ ۲۵۷)