حیاتِ خالد — Page 38
حیات خالد 41 ولادت ، بچپن اور تعلیم ولادت ، بچپن اور تعلیم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کی ولادت ۱۴ را پریل ۱۹۰۴ء ولادت بمطابق ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۲ ہجری بروز جمعرات ہوئی۔آپ کے والد محترم حضرت منشی امام الدین صاحب نے آپ کا نام اللہ دتا رکھا۔بلا د عربیہ تشریف لے جانے کے بعد آپ نے ابوالعطاء نام اختیار کر لیا جو اس قدر معروف ہوا کہ اصل نام اکثر کو یاد بھی نہیں۔آپ کے والد محترم نے آپ کو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی خدمت دین کیلئے وقف کر دیا تھا اس طرح آپ کو یا پیدائشی واقف زندگی تھے۔حضرت مولانا نے لکھا۔میری تاریخ ولادت ۱/۱۴اپریل ۱۹۰۴ ء ہے میں اپنے والدین کا پہلا فرزند تھا۔میرے والدین میری ولادت سے دو تین سال پیشتر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے۔دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔والد بزرگوار حضرت منشی امام الدین صاحب فرمایا کرتے تھے تمہاری ولادت سے پہلے ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بیٹا دے گا تو میں اسے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گا چنانچہ انہوں نے مجھے پہلے دن سے وقف کر دیا۔(الفرقان اکتوبر ۱۹۶۷ ء صفحه ۴۳) حضرت مولانا نے اپنے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ خود تحریر فرمایا۔ملا حظہ بچپن کا ایک واقعہ فرمائیے۔"میری عمر چار پانچ سال کی ہوگی ہمارے گاؤں کر یبا ضلع جالندھر میں محرم الحرام میں شیعوں کے ہاں تعزیہ بنا کرتا تھا۔ان دنوں سنی صاحبان بھی بالعموم تعزیوں میں شریک ہو جاتے تھے اور انہیں دیکھنے کیلئے تو سب مردوزن گھروں سے باہر آجایا کرتے تھے۔بچوں کیلئے تو مشغلہ چاہئے۔مجھے خوب یاد ہے کہ نویں اور دسویں محرم کی درمیانی رات کو جسے مہندی کی رات کہتے تھے اور اس موقعہ پر گاؤں کی مستورات بھی ، بچے بھی مہندی کی تقریب دیکھنے جایا کرتے تھے۔چھوٹے بچوں کو ان کے ماں باپ ساتھ لے جاتے تھے۔ہمارے گاؤں میں ان دنوں تک ہمارے گھر کے سوا کوئی احمدی گھرانہ نہ تھا۔حضرت والد صاحب مرحوم کو ان ایام میں میرے دادا صاحب نے احمدیت کی وجہ سے اپنے گھر سے