حیاتِ خالد — Page 384
حیات خالد 377 اہم شخصیات سے ملاقاتیں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اپنی مصروف اور ہر دم سرگرم کا رزندگی میں یوں تو سینکڑوں ہزاروں لوگوں سے ملاقاتیں کیں لیکن آپ کو ایسے اہم لوگوں سے بھی ملاقات کا موقعہ ملا جن سے ملاقات تاریخ احمدیت کے اہم واقعات کا حصہ بن گئی۔ان شخصیات میں سرفہرست بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ہیں جن سے ۱۹۳۵ء میں ملاقات ہوئی۔اس کے بعد ۱۹۵۲ء میں پہلے جماعت اسلامی کے بانی جناب ابوالاعلیٰ مودودی صاحب اور پھر جماعت احمدیہ کے ایک وفد کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان جناب خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقات ہوئی اور اسی سال اگست میں سرحد کے نامور مسلم لیگی رہنما اور ایک وقت میں مرکزی کابینہ کے وزیر سردار عبدالرب صاحب نشتر سے بڑی دلچسپ ملاقات ہوئی اور ۱۹۶۰ء میں آپ کی ممتاز احراری لیڈ رسید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب سے ملاقات ہوئی۔ملک کے دو اخبارات کے مشہور مدیران جناب عبدالرحیم اشرف اور آغا شورش کا شمیری سے بھی بہت دلچسپ ملاقاتیں ہوئیں۔ان دونوں مدیران سے الفرقان کے صفحات میں بحث و مباحثہ ہوتا رہتا تھا۔فلسطین میں قیام کے دوران آپ نے بہائی تحریک کے بارہ میں خوب تحقیق کی۔اسی سلسلہ میں ان کے لیڈر شوقی آفندی سے بھی ملاقات کی۔ان تمام ملاقاتوں کا احوال حضرت مولانا نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا اور ماہنامہ رسالہ "الفرقان“ میں شائع کیا۔ذیل میں ہم ان ملاقاتوں کا احوال حضرت مولا نا ہی کے قلم سے درج کر رہے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی روداد حضرت مولانا نے الفرقان کے اکتوبر ۱۹۷۶ ء کے شمارے میں بطور اداریہ شائع کی۔حضرت مولانا نے تحریر فرمایا : - قائد اعظم جناب محمد علی جناح دور حاضر کی ایک عظیم سیاسی شخصیت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو حزم و احتیاط ، عزم و بلند ہمتی اور فطانت و فراست کی خاص صفات سے نوازا تھا۔دنیا میں عام غلام قوموں کی آزادی بھی بڑا کارنامہ ہوتا ہے مگر جس قسم کی انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی کی زنجیروانی میں ہندوستانی مسلمان جکڑے ہوئے تھے ان زنجیروں کو محض سیاسی حکمت عملی سے بلا جنگ و قتال کاٹ کر رکھ دینا اور مسلم قوم کے لئے ایک وسیع و عریض آزاد ملک حاصل کر لیتا ایسا عظیم کارنامہ ہے جو خاص مشیت ایز دی کا ایک کرشمہ نظر آتا ہے۔