حیاتِ خالد — Page 379
حیات خالد 371 ممالک بیرون کے اسفار بہائیوں سے گفتگو تہران میں بہائی خفیہ طور پر تبلیغ کرتے ہیں۔ایک دوست کے ذریعہ ہم ان سے گفتگو کیلئے ان کے مکان پر پہنچے۔چار پانچ بہائی موجود تھے اس شب اس امر پر گفتگو ہوئی کہ بہائیوں کا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی حیات و وفات کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ؟ جناب بہاء اللہ کے حوالہ جات دکھائے گئے کہ مسیح آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں اور چرخ چہارم پر زندہ ہیں۔عبد البہاء کے اقتباس دکھائے گئے کہ مسیح صلیب پر مارے گئے تھے اور انسانوں کا کفارہ ہو گئے۔بہائیوں نے یہ موقف اختیار کیا۔کہ عبد البہاء مفسر کتاب ہیں۔ان کا قول ہی قبول ہوگا۔پھر ان کے سامنے یہ مشکل پیش آئی کہ قرآن مجید کو آپ لوگ منجانب اللہ مانتے ہیں اور قرآن مجید کہتا ہے کہ جو لوگ میسیج کو مقتول و مصلوب مانتے ہیں وہ لعنتی ہیں۔آخر انہوں نے لاچار ہو کر کہا کہ کل سوچ کر بات کریں گے۔دوسرے روز اس موضوع کو بالکل چھوڑ دیا اور بدشت کا نفرنس میں قرآن مجید کو منسوخ قرار دینے کی سازش کی تاریخی حقیقت میں بہائی صاحبان پھنس گئے۔انہوں نے اقرار کیا کہ واقعی اس کا نفرنس میں باہمی مشورہ سے قرآن مجید کو منسوخ قرار دے کر نئی شریعت بنانے کی تجویز ہوئی تھی۔پھر اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ قرآن مجید میں بہائیت کے متعلق پیشگوئی ہے انہوں نے سورۃ ق کی آیت وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ پیش کی۔جب اس کا جواب آیت فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يخاف وَعِيدِ سے دیا گیا تو بات ختم ہو گئی۔اس گفتگو میں میرے ہمراہ مکرم اخویم محمد افضل صاحب اور مکرم ملک مشتاق احمد صاحب بھی ہوتے تھے۔دوسرے دن کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔جمعہ کی نماز کے بعد احباب نے احباب جماعت کے استفسارات کے جوابات خواہش کی کہ بعض دینی مسائل کا جواب دیا جائے۔چنانچہ ہر جمعہ کے روز قریبا دو گھنٹے تک یہ سلسلہ گفتگو جاری رہا۔فقہی اور دینی سوالات بھی کئے گئے۔مختلف مذاہب کے خیالات و عقائد کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔پھر احباب کے اصرار پر قومی اسمبلی میں جماعتی موقف اور دیگر کوائف سے احباب کو آگاہ کیا گیا۔اس سوال و جواب میں احباب بہت دلچسپی لیتے رہے۔سرزمین ایران میں حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب ایک ایران میں ایک مقدس امانت بزرگ مبلغ سلسلہ احمدیہ مدفون ہیں۔آپ ۱۳ جولائی ۱۹۲۳ء کو پیغام حق پہنچانے کیلئے ایران روانہ ہوئے تھے۔۱۶ را اکتو بر ۱۹۲۴ء کو مشہد پہنچے تھے چند روز بعد تہران