حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 377 of 923

حیاتِ خالد — Page 377

حیات خالد 369 ممالک بیرون کے اسفار ایرانیوں کی اچھی عادت میرے قیام کیلے عزیزم میں محمد افضل صاحب نے اپنے مکان کا ایک کمرہ مخصوص فرما دیا تھا۔یہ مکان ان کا ذاتی مکان ہے اور تفاؤل یہ ہے کہ تہران کے خیابان سلمان الفاری پر واقع ہے۔جب ہم کمرہ میں داخل ہونے لگے تو سب نے جوتے باہرا تار دیئے اور مجھے بتایا کہ جاپان کی طرح ایران میں بھی یہ رواج ہے کہ جوتے باہر اتار دیتے ہیں جیسا کہ جاپان کے متعلق عزیزم عطاء الجیب صاحب را شد مبلغ جاپان نے اپنے مضمون مندرجہ الفرقان میں لکھا ہے۔اس رواج سے قالین وغیرہ صاف ستھرے رہتے ہیں یہ رواج عام طور پر ایران میں پایا جاتا ہے۔میں نے اپنے عرصہ قیام میں محسوس کیا ہے کہ اہل ایران میں ایرانیوں میں جذبہ سیر و تفریح ایک نہایت اچھی بات یہ ہے کہ وہ فرصت ملتے ہی پارکوں۔سیر گاہوں اور تفریحی مقامات میں چلے جاتے ہیں۔خود تہران میں پارک بکثرت ہیں اور ان میں عورتوں اور بچوں کیلئے علیحدہ اوقات بھی مقرر ہیں۔خود حکمران شہنشاہ معظم بھی لوگوں کی صحت اور تفریح کا خاص خیال رکھتے ہیں۔متعدد پارک اور باغ ان کے اور ان کی بیگم صاحبہ کے ناموں پر قائم ہیں۔لوگوں میں بھی یہ اچھی عادت ہے کہ وہ سیر گاہوں سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس کا ان کی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔مجھے بھی دوستوں نے تہران کی قریباً تمیں سیر گاہوں کی سیر کرائی ہوگی اور تہران سے باہر متعدد تفریحی مقامات پر بھی لے گئے۔اس طرح سے میرے چار ہفتے نہایت اچھے گزرے۔ایسے احباب جو خیال رکھتے رہے۔ان کیلئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔عزیزم محمد افضل صاحب کی پانچ بچیوں نے میرے پہنچنے کے دادا جان کہنے کا فیصلہ دوسرے روز مجھ سے پوچھا کہ ہم آپ کو دادا جان کہا کریں یا نانا جان؟ میں نے کہا کہ جو لفظ بھی کہنا آپ پسند کریں کہہ سکتی ہیں۔پھر پوچھا کہ آپ بتا ئیں کہ آپ کون سا لفظ زیادہ پسند کرتی ہیں؟ تو سب نے بالا تفاق کہا کہ ہم دادا جان کہنا زیادہ پسند کرتی ہیں چنانچہ اسی پر فیصلہ ہو گیا اور عرصہ قیام میں یہ بچیاں محبت بھرے انداز میں یہی لفظ استعمال کرتی رہیں۔ایران میں یوم سرکاری طور پر ایران میں تعطیل کا دن جمعہ ہے۔اس دن تعطیل جمعہ ہے جملہ دفاتر اور کارخانے وغیرہ بند ہوتے ہیں۔بعض محکموں اور فرموں میں ہفتہ میں کام کے پانچ دن ہوتے ہیں۔ان میں دوسرا یوم تعطیل جمعرات ہوتا ہے۔اس