حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 362 of 923

حیاتِ خالد — Page 362

حیات خالد 362 ممالک بیرون کے اسفار بذریعہ طیارہ کراچی کیلئے روانگی ہوئی۔اس موقعہ پر الوداع کہنے کیلئے عزیزم مولوی محمد شفیع صاحب اشرف مربی سلسلہ، مکرم ملک عبداللطیف صاحب ستکوہی ، مکرم چوہدری نصیر احمد صاحب، مکرم عزیزم صوفی رحیم بخش صاحب اور متعدد دوسرے دوست بھی ائیر پورٹ پر موجود تھے۔عزیزم مولوی عطاء الکریم صاحب شاہد مربی سلسلہ اور ان کے فرزند عزیز عطاء الحبیب اور عزیز عطاء الاعلیٰ سلمہما اللہ ربوہ سے ہی ہمراہ تھے سب نے دعاؤں کے ساتھ رخصت فرمایا۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا۔کراچی سے روانگی ملک اپنی ایئر پورٹ پرمحترم چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت اخویم شیخ کراچی ، خلیل الرحمن صاحب، مکرم عبدالرحیم صاحب مدهوش عزیزم مکرم عطاء الرحمن صاحب طاہر، مکرم چوہدری عبد الوہاب صاحب، مکرم شیخ رفیق احمد صاحب اور مربی سلسلہ مکرم مولوی سلطان محمود صاحب انور وغیر ہم موجود تھے۔ایک رات وہاں گزارنے کے بعد ۲ ستمبر کوعلی الصبح لندن کیلئے روانگی تھی۔اللہ تعالٰی مسبب الاسباب ہے اس نے ہر قسم کی سہولت عطا فرمائی۔مذکورہ احباب کے علاوہ دیگر متعدد احباب کی مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ ہوائی جہاز میں داخل ہوا۔عاجزانہ دعائیں کیں سفر کے بخیریت سرانجام پانے کیلئے اور خدمت دین کی توفیق کیلئے نیز جملہ حسن اور مخلص احباب کیلئے۔۲ ستمبر کو ہی قاہرہ، روم اور پیرس سے ہوتا ہوا ہوائی جہاز شام چھ بجے کے لندن میں نزول قریب لندن کے ائیر پورٹ پر اترا۔قاہرہ سے آگے کا سارا سفر میرے لئے بالکل نیا تھا۔بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام کے پنج سالہ عرصہ میں قاہرہ میں تو کئی مرتبہ آیا تھا۔تا ہم ہوائی متفقر میں جو غیر معمولی توسیع ہو چکی ہے اس کے دیکھنے کا موقعہ ای مرتبہ میسر آیا۔روم کا ہوائی مستقر بھی قابل دید ہے۔لندن کے مطار پر ایک بڑی تعداد مخلصین اور عزیزوں کی موجود تھی۔ان دنوں حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ انگلستان سے باہر یورپ کے دورہ پر تھے اور محترم امام صاحب حضور کے ہمراہ تھے لندن مشن میں عزیزم عطاء الجیب صاحب را شد ایم اے نائب امام ہی بطور انچارج تھے۔وہ اور ان کے ساتھی مبلغ عزیزم عبدالوہاب بن آدم اور عزیزم خواجہ منیر الدین صاحب شمس بھی احباب کے ساتھ استقبال کیلئے موجود تھے۔ان کے علاوہ محترم شیخ مبارک احمد صاحب ابن خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مرحوم لندن ائیر پورٹ پر موجود تھے۔کاروں میں مشن ہاؤس اور پھر عزیزم محمد اسلم صاحب جاوید کے مکان پر پہنچے جہاں پر میں سارا عرصہ مقیم رہا۔جَزَاهُمُ اللهُ خَيْرًا۔