حیاتِ خالد — Page 356
حیات خالد 356 ممالک بیرون کے اسفار نے یہ تاثرات قلمبند کرنے شروع کئے ہیں۔اس ایثار کیلئے چوہدری صاحب موصوف کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے۔جَزَاهُ اللهُ خَيْرًا۔دن بھر کے پر لطف سفر کے بعد ۵/ مارچ کو رات کے ساڑھے سات بجے ہم سندر بن میں جماعت احمدیہ کے مقام جتند رنگر کے سامنے دخانی کشتی سے اترے اور بذریعہ چھوٹی کشتی نو کے کے کنارے پر پہنچے۔احباب جماعت کی ایک بڑی تعداد استقبال کیلئے دریا کے کنارے کھڑی تھی۔مصافحہ و معانقہ کے بعد ہم سب احمد یہ مسجد میں پہنچے۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث اید و اللہ بنصرہ کی صحت و عافیت کے بارے میں احباب محبت سے پوچھتے رہے۔نماز عشاء کے بعد کھانا کھا کر سب نے آرام کیا۔جماعت احمد یہ سندر بن مشرقی پاکستان کے جماعت احمد یہ سندر بن کے چند کوائف جنوب مغربی کنارہ پر واقع ہے۔مندر بن بہت وسیع جنگلوں کا سلسلہ ہے جو ڈیلٹازون کے ساتھ ساتھ سمندر تک پھیلا ہوا ہے۔ان جنگلوں میں شیر، چیتا اور ہرن وغیرہ بکثرت ہوتے ہیں اور شکاری دور دور سے وہاں پہنچتے ہیں۔ابھی اسی ہفتہ شاہ نیپال شکار کیلئے سندر بن آئے تھے۔اس علاقے میں جندر نگر اور منشی سنج وغیرہ گاؤں میں احمدی جماعتیں قائم ہیں۔یہ گاؤں بھارت کی سرحد سے تین چار میل کے فاصلے پر ہیں۔سرحد ایک دریا ہے جس کے ایک طرف پاکستانی جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں اور دوسرے کنارے بھارتی جہاز اور کشتیاں۔جتند رنگر یا بھیٹ کھائی گاؤں کی کل آبادی تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔آبادی پھیلی ہوئی ہے۔دریا کے کنارے کنارے گھر ہیں۔ڈیڑھ ہزار کے قریب ہندو ہیں باقی مسلمان۔جن میں سے قریباً چھ سو احمدی ہیں۔اس جگہ جماعت احمدیہ کی ایک عمدہ اور وسیع مسجد ہے۔ایک مدرسہ احمدیہ بھی ابتدائی حالت میں ہے جس میں ساٹھ کے قریب بچے بچیاں قرآن مجید اور دینیات پڑھتے ہیں۔گاؤں میں ہائی سکول بھی ہے جس کے ہیڈ ماسٹر مولوی جناب علی صاحب احمدی ہیں۔طلبہ کی تعداد تین صد ہے جن میں سے اکثر ہندو ہیں۔جماعت احمدیہ کے صدر جناب مولوی محمد شمس الرحمن صاحب تمغہ خدمت، علاقہ بھر میں بارسوخ آدمی ہیں سب ان کی عزت کرتے ہیں۔وہ سالہا سال تک بطور چیئر مین یونین کونسل علاقہ کے باشندوں کی خدمت کرتے رہے ہیں۔جماعت کے افراد اخلاص و محبت کے پیکر نظر آتے ہیں اور خوب منتظم ہیں۔۶، ۷ / مارچ کو جماعت احمد یہ سندربن کا پہلا سالانہ جلسہ سندر بن میں پہلا سالانہ جلسہ مقرر تھا۔گردونواح میں بھی اس کی تشہیر ہو چکی تھی۔جلسہ