حیاتِ خالد — Page 355
حیات خالد 355 ممالک بیرون کے اسفار بجائے نیچے آٹھ دس فٹ گہرے گڑھے میں گر گئی۔کار کا شیشہ چکنا چور ہو گیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم سب بالکل صحیح سلامت رہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَلِکَ۔زخمی نے اس وقت دم توڑ دیا اور ایک غضب ناک انبوہ دیہاتیوں کا فورا ہمارے ارد گرد جمع ہو گیا۔ان لوگوں نے کئی بار جوش سے آگے بڑھ کر ہمیں مارنے کا قصد کیا مگر اللہ تعالی کے تصرفات پر قربان جائیں کہ اس نے پولیس کے آنے تک جس میں دو گھنٹے لگ گئے تھے مختلف طریقوں سے ان لوگوں کو اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہنانے سے روکے رکھا حالانکہ اس علاقہ میں ایسے مواقع پر کشت وخون ایک معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔پولیس نے واقعہ کی تحقیق کی اور اسے ایک افسوسناک اتفاقی حادثہ قرار دیا گیا۔تھانہ میں با قاعدہ بیانات کے بعد ہم شام کو فرید پور پہنچ گئے اور دوسرے دن ۳ ر ما رچ کو بذریعہ کار فرید پور سے ڈھا کہ پہنچے اور جمعہ کی نماز احمد یہ مسجد ڈھا کہ میں ادا کی۔اس حادثہ کے سارے پہلوؤں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خاص طور پر ہماری حفاظت فرمائی اور ہمیں ہر قسم کی شاعت اعداء سے محفوظ رکھا۔الحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلهِ۔اس موقعہ پر پولیس کے پہنچنے کے بعد مشہور لیڈر جناب موہن میاں صاحب کا پہنچ جاتا بھی ایک غیر معمولی بات تھی۔ہمارے بھائی مکرم وزیر علی صاحب نے اس موقعہ پر جس خلوص اور محبت کا ثبوت دیادہ ایک نہ مٹنے والا نقش ہے اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔آمین ۳ مارچ کو محترم شیخ مبارک احمد صاحب تو حسب پروگرام واپس ربوہ سندر بن کیلئے روانگی روانہ ہو گئے اور محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب پروگرام کے مطابق ۴ مارچ کو سلہٹ تشریف لے گئے اور وہاں سے واپسی پر ے مارچ کو ر بووروانہ ہوئے۔خاکسار کیلئے / یہ ارشاد تھا کہ جماعت احمد یہ سندر بن کے سالانہ جلسہ منعقدہ ۶ ، ۷ مارچ میں شرکت کروں۔مورخہ ۴ / مارچ کو دوپہر کے وقت ہم ایک قافلہ کی صورت میں جس میں خاکسار کے علاوہ جناب مولوی محمد صاحب امیر مشرقی پاکستان، جناب مولوی احمد صادق صاحب فاضل، جناب احمد توفیق صاحب چوہدری محترم چوہدری محمد شریف صاحب ڈھلوں اور مسٹر عبدالستار صاحب طالبعلم ایم۔اے کلاس شامل تھے، بحری جہاز کے ذریعہ ڈھاکہ سے روانہ ہوئے۔صبح کھلنا پہنچے۔وہاں پر محترم جناب چوہدری انو ر احمد صاحب کاہلوں آف پاک بے" نے جو خود حج کیلئے روانہ ہو چکے تھے اپنے خرچ پر اس موٹر لانچ کا انتظام کر رکھا تھا جس پر ہم نے کھلنا سے سندربن تک اور پھر واپسی کا سفر کیا اور اسی پر بیٹھے میں۔