حیاتِ خالد — Page 342
حیات خالد 341 بلا وعر بیہ میں تبلیغ اسلام جا سکتا ہے۔میں نے جھٹ اپنے نام کی چٹ بھجوا دی فورا ہی مجھے بلا لیا گیا۔میں سٹیج پر گیا اور میں نے عربی زبان میں فی البدیہ تقریر کی کہ واقعی پاکستان میں عربی زبان کو فروغ دینا چاہئے۔آیات اور احادیث کے حوالہ کے علاوہ عربی کے ام الالسنہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔چند منٹ کی تقرریتی لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص توفیق عطا فرمائی۔میری تقریر کے بعد آخر میں صاحب صدر کا خطاب تھا جو کسی عرب ملک کے تھے۔انہوں نے میری تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ تقریرین کراتنی خوشی ہوئی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ جب یہ پاکستانی شخص (جس کو میں نہیں جانتا) سٹیج پر آیا اور بجائے اردو کے عربی میں تقریر شروع کر دی تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ پاکستانی شخص کیسے عربی بول سکے گا۔میں نے دل میں ارادہ کیا کہ کاغذ قلم لے کر اس کی عربی کی غلطیاں نوٹ کرتا جاؤں چنانچہ میں نے بہت غور سے اس کی تقریر سنی شروع کی اور مجھے یہ کہتے ہوئے بہت ہی خوشی ہو رہی ہے کہ میں اس غیر عرب پاکستانی کی ساری عربی تقریر میں ایک بھی غلطی نہیں ڈھونڈ سکا اور میں اپنی اس کوشش میں بُری طرح ناکام ہو گیا ہوں۔ایک پاکستانی کی زبان سے ایسی شاندار عربی سن کر میں حیران ہو گیا ہوں اور صمیم قلب سے سارے پاکستانیوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان میں اس لیاقت اور قابلیت کے افراد موجود ہیں۔حضرت ابا جان مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ اجلاس ختم ہوا تو حاضرین جلسہ نے مجھے گھیر لیا اور پر تپاک مصافحوں اور معالقوں کے ساتھ ہر طرف سے مبارکباد اور شکریہ کی آواز میں بلند ہونے لگیں۔ہر ایک کی زبان پر یہ فقرہ تھا کہ مولانا! آج تو آپ نے اسلام کی اور ہم پاکستانیوں کی لاج رکھ لی ہے۔آپ کی نوازش ، آپ کا شکریہ۔اس کے بعد یہ لوگ مجھ سے پوچھتے کہ مولانا آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ میں ربوہ کا ذکر کرتا تو کھسیانے ہو کر وہاں سے کھسک جاتے۔یہ منظر دیکھنے والا تھا کہ بڑے تپاک سے آتے اور مبارکباد دیتے لیکن ربوہ کا نام سنتے ہی تعصب کے مارے اُلٹے پاؤں پھر جاتے ! محترم ڈاکٹر مسعود الحسن صاحب نوری ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں:۔"خلافت ثالثہ میں ایک بار فلسطین سے چند نوجوان طلبہ حضور رحمہ اللہ سے ملنے آئے۔ملاقات کے بعد حضور نے ہدایت فرمائی کہ ان عرب مہمانوں کی کسی اچھے ہوٹل میں خوب مہمان نوازی کی جائے۔اس ارشاد کی تعمیل میں میں اور محترم مرزا فرید احمد صاحب ان کو لاہور کے ایک اچھے ہوٹل میں لے گئے۔حسب ہدایت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل بھی اس مجلس میں شریک ہوئے اور آپ ہی نے عربی زبان میں ان مہمانوں سے بات چیت کی۔حضرت مولانا کو میں نے عربی بولتے ہوئے