حیاتِ خالد — Page 329
حیات خالد 328 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہمارے مبلغ نے اس عرصہ میں یہ بھی سعی کی کہ جماعت کو رجسٹرڈ کرانے کی مساعی جماعت احد پر فلسطین کوسرکاری کا غذات میں رجسٹرڈ یه کرا کر ایک مسلمہ حیثیت دے لیں۔اس کام میں بہت سی مشکلات تھیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال رہا ہے اور جماعت کو سرکاری حلقوں میں ایک مسلمہ جماعت تسلیم کر لیا گیا ہے۔اس طرح سے ایک نہایت ہی ٹھوس کام کو گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصے میں سرانجام دیا گیا۔جماعت کا پیج فلسطین، شام ، عراق ، شرق اردن، مصر اور سوڈان تک پھیل گیا ہے اور پھیل رہا ہے۔اور یہ چھوٹے چھوٹے پودے بڑھ رہے ہیں اور ترقی حاصل کر رہے ہیں۔وقت آنے پر وہ بہت بڑے تن آور درخت بن جائیں گے۔مولانا ابو العطاء صاحب کی سعی اور کوششیں قابل قدر ہیں مگر افسوس ہے کہ ہم ان کی خدمات کو پبلک میں لانے کے فرض سے غافل ہیں۔اللہ تعالی توفیق دے کہ ہم دوسرے میتھین کی خدمات کو بھی پبلک کر کیں۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ - ( محمود احمد عرفانی الحکم ۱۲-۲۱ - ۲۸ / مارچ و بے اپریل ۱۹۳۶ء ) وضاحتی نوٹ : یہاں یہ امر قابل وضاحت ہے کہ حضرت مولانا کی شادی ۲۹ نومبر ۱۹۳۰ء کو ہوئی تھی اور آپ ۱۳ را گست ۱۹۳۱ء کو جہاد تبلیغ کیلئے روانہ ہو گئے تھے۔(مؤلف) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری خدمت سلسلہ قادیان دارالامان میں واپسی سے بھر پور ساڑھے چار سال گزارنے کے بعد ہار فروری ۱۹۳۶ء کو حیفا سے واپس قادیان جانے کے لئے روانہ ہوئے۔۲۳ / فروری ۱۹۳۶ء کو خیریت سے قادیان دارالامان پہنچ گئے۔قادیان پہنچنے پر آپ کا والہانہ استقبال کیا گیا۔اس کا بہت خوبصورت اور تفصیلی ذکر اخبار الحکم میں مبلغ فلسطین کی آمد کے زیر عنوان ملتا ہے۔یہ نوٹ ذیل د میں درج کیا جاتا ہے۔قادیان کی بستی میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو دنیا کے کسی شہر میں نہیں ہیں۔جن میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ مبلغین کے جانے اور آنے کی جس قدر تقریبیں یہاں پیدا ہوتی ہیں اور کسی جگہ پیدا نہیں ہوتیں۔بعض اوقات تو روزانہ ہی ایسی تقریب پیدا ہوتی ہے۔ایسی تقریبات پر جماعت میں ایک زندگی اور روح پیدا ہوتی ہے۔انہی تقریبوں میں سے مولانا ابوالعطاء اللہ دتا صاحب مولوی فاضل جالندھری کی آمد کی تقریب تھی۔مولانا ابو العطاء ساڑھے چار سال بلاد عر بیہ میں خدمت دین کا فریضہ عربیہ ادا کر کے تشریف لائے ہیں۔آپ ۲۳ / فروری کو ۱۲ بجے کی گاڑی سے قادیان پہنچے۔حضرت