حیاتِ خالد — Page 309
حیات خالد 308 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہو گئے اور عیسائیت کی تبلیغ شروع کر دی ایک دفعہ جماعت حیفا کے چند افراد نے اس سے ملاقات کی۔اور اس سے دریافت کیا کہ کیا آپ جماعت احمدیہ کے مبلغ صاحب سے مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس نے کہا کہ ہاں تیار ہوں۔چنانچہ جماعت کے افراد نے مولانا ابوالعطاء صاحب کو اس کی خبر دی۔آپ کے مشورہ سے مناظرہ کی تاریخ مقرر کی گئی۔جب مناظرہ شروع ہونے لگا تو مولانا نے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا کی۔اس کے بعد مناظرہ شروع ہوا۔احباب جماعت نے مولانا سے پوچھا کہ آپ نے کیا دعا کی؟ اس پر مولانا نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا رب اس مناظرہ کا نیک اثر سامعین پر قائم ہو۔اس عیسائی کی لفاظی اور ملمع سازی سے عوام الناس متاثر نہ ہوں بلکہ جو حقیقت اور حق میں بیان کروں اس سے یہ متاثر ہوں۔الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔مولانا نے ٹھوس دلائل سے مسیحیت کا بطلان اور اسلام کی حقانیت ثابت کر دی۔جب عیسائی صاحبان نے اپنے پادری کی شکست کو محسوس کیا تو انہوں نے مولانا کو کہا کہ شیخ محمد برنا بہ عیسائیت میں نیا نیا داخل ہوا ہے۔وہ علم لاہوت نہیں جانتا۔ہم ایک دوسرے عیسائی پادری سے بات کریں گے کہ وہ آپ سے مناظرہ کرے کیوں کہ وہ علم لاہوت کا عالم ہے۔مگر کوئی دوسرا پادری مولانا سے مناظرہ کیلئے تیار نہ ہوا۔مولانا موصوف نے ایک مقالہ بعنوان " عِشْرُوْنَ دَلِيْلاً عَلَى بُطْلَانِ لاهُوتِ الْمَسِيْح “ پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا۔اور اسے خوب تقسیم کیا گیا۔اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ایک عیسائی خاتون دمشق سے حیفا آئیں۔اور مولانا سے ان دلائل کے متعلق مزید بحث کرنا چاہی۔مولانا نے ان کو اپنے پیش کردہ دلائل کی حقانیت سمجھائی نیز کہا کہ یسوع مسیح پر ایمان لانا کسی طرح بھی نجات کا موجب نہیں ہو سکتا۔جب اس نے مولانا کے ٹھوس دلائل کو سنا اور ان کا کوئی جواب نہ دے سکی۔تو اس نے کہا کہ میں تو علم لاہوت سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔میں کسی بڑے پادری سے بات کروں گی کہ وہ آپ سے بات کریں۔اس طرح وہ چلی گئیں اور بعد میں اس کی طرف سے کسی طرح کی کوئی اطلاع مناظرہ کیلئے نہ ملی۔صالح حامد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ مولانا موصوف نے اپنے دوستوں میں عصر کی نماز کے بعد سنگترے تقسیم کئے۔عداللہ علاقی صاحب نے کہا کہ مجھے اس وقت سنگترہ کھانے کی خواہش نہیں ہے۔اس پر مولانا نے انہیں سنگترہ دیا اور کہا جب سب نے سنگترے لے لئے تو آپ کو بھی لے لینا چاہئے۔سید نا النبی ﷺ نے فرمایا ہے "مَنْ شَدَّ شَدَّ فِي النَّارِ " (مشکوۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنه ) یعنی جو جماعت سے جدا ہو گیا وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔اس نصیحت کو عبد اللہ علاقی صاحب نے قبول کر