حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 26 of 923

حیاتِ خالد — Page 26

حیات خالد مخالفت 28 ابتدائی خاندانی حالات میرے خاندان میں احمدیت نہال سے آئی ہے۔میرے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب اجمیر کے وٹرنری کالج میں پڑھتے تھے۔انہوں نے لٹر بچر پڑھ کر احمدیت کو قبول کر لیا۔انہوں نے میرے والد صاحب کے نام اخبار الحکم جاری کروا دیا۔میرے دادا قاضی مولا بخش صاحب گاؤں کے خطیب تھے۔وہ سورج اور چاند گرہن کے نشان کے ظاہر ہونے پر خطبہ دے چکے تھے کہ یہ امام مہدی کے ظہور کا نشان ہے اب ہمیں انتظار کرنا چاہئے کہ امام موعود کب اور کہاں سے ظاہر ہوتا ہے؟ حضرت والد صاحب مرحوم اخبار الحکم پڑھ کر احمدیت سے متاثر ہوئے اور آخر انہوں نے جلد ہی احمد بیت کو قبول کر لیا۔ہمارے دادا کٹر قسم کے اہل حدیث تھے۔انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کے احمدی ہو جانے کو بہت بُرا منایا، سخت ناراض ہوئے ، غصہ میں آ کر والد صاحب مرحوم کو سخت زدو کوب کیا، والدہ مرحومہ کے تمام زیورات اتروالئے اور دونوں کو اپنے مکان سے نکال دیا۔میرے والد صاحب مرحوم نے گاؤں کے دوسرے حصہ میں ایک مکان لے کر رہائش اختیار کر لی اور پر چون کی دکان شروع کر دی اور بھی کاروبار تھا۔ان مصیبت کے سالوں کے دوران ہی میری ولادت ہوئی اور میرے والد رضی اللہ عنہ نے نہایت اخلاص سے مجھے خدمت دین کیلئے وقف کر دیا۔میں جب بھی اپنے والدین کے حالات پر غور کرتا ہوں اور ان کی انتہائی غربت اور تکلیف کے باوجود ان کے اس جذ بہ پر نظر کرتا ہوں کہ وہ ان حالات میں بصد شوق اپنے پہلے بچہ کو خدمت دین کیلئے وقف کر دیتے ہیں تو مجھے کچھ کچھ اس یقین اور اس قوت قدسیہ کا اندازہ ہوتا ہے جو سید نا حضرت مسیح ، موعود علیہ السلام نے اپنے غریب سے غریب ایمانداروں کے دلوں میں بھی پیدا کر دی تھی۔رَضِی اللهُ عَنْهُمْ وَاَرْضَاهُمْ۔(ماہنامہ الفرقان اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحه ۴۳ ۴۴) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری والد محترم حضرت منشی امام الدین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے والدمحترم حضرت منشی امام الدین صاحب سمیت حضرت مولانا کے دادا کے سات بیٹے تھے۔حضرت منشی صاحب سب سے بڑے تھے۔حضرت منشی صاحب کے والد (حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کے دادا قاضی مولا بخش صاحب ) اپنے علاقہ کے مسلمہ عالم تھے۔لوگ وقتا فوقتا انہیں اپنے پاس وعظ و تلقین کیلئے بلایا کرتے تھے۔حضرت منشی صاحب نے بھی اپنے والد کے ہمراہ ایسی مجالس میں آنا جانا شروع کر دیا۔حضرت منشی صاحب کسوف و خسوف کے نشان کا تذکرہ پہلے ہی سن چکے تھے اخبار الحکم آپ کے زیر مطالعہ رہتا تھا۔بالآخر