حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 265 of 923

حیاتِ خالد — Page 265

حیات خالد 0 271 مناظرات کے میدان میں مکرم میجر حمید احمد کلیم صاحب مرحوم سابق ناظم جائیداد تحریر فرماتے ہیں۔حضرت مولانا کا شمار جماعت احمدیہ کے چوٹی کے علماء میں ہوتا رہا ہے۔آپ کا طریق مناظرہ بے حد پسندیدہ اور انتہائی موثر ہوتا تھا۔آپ کا طرز کلام اور مدلل طریق گفتگو سامعین کو مسحور کر دیتا تھا۔ایسے حالات میں مخالفین سوائے شور و غل مچانے کے اور کوئی راہ فرار نہ پاتے تھے۔0 محترم عبد الحمید صاحب عاجز قادیان سے لکھتے ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو خاکسار ۳۴ ۱۹۳۳ء سے جانتا ہے جب کہ خاکسار بٹالہ میں میٹرک کا طالب علم تھا اور محترم مولوی صاحب مرحوم بٹالہ غالباً پہلی مرتبہ ایک مناظرہ کیلئے تشریف لائے تھے۔یہ مناظرہ اہل حدیث کے ایک مشہور عالم مولانا محمدابراہیم صاحب سیالکوٹی کے ساتھ طے پایا تھا۔مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اپنی تقریر کی ابتداء میں مکرم مولوی صاحب کو ایک کم عمر اور نا تجر به کار نوجوان خیال کرتے ہوئے تمسخر اور حقارت کے انداز میں بیان کیا کہ ان کے مقابل پرسید سرور شاہ صاحب یا کوئی اور تجربہ کار ان کے ہم پلہ عالم مناظرہ کے لئے آنا چاہئے تھا۔جس کے جواب میں محترم مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں جنگ بدر میں ابو جہل کے دو نوجوان انصاری لڑکوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے کا حوالہ دے کر ان کو ساکت کر دیا۔حضرت مولانا کے دور میں ہماری جماعت کے تین علماء کرام کو جماعتی مناظروں میں حصہ لینے کا اکثر موقع ملتا رہا ہے جن میں سے محترم ملک عبدالرحمن خادم صاحب مرحوم کافی تیز اور بعض اوقات مخالف کا منہ بند کرنے کیلئے اینٹ کا جواب پتھر سے بھی دیا کرتے تھے۔اسی طرح جماعت کے ایک دوسرے مشہور عالم اور مناظر محترم مولوی محمد سلیم صاحب آف کلکتہ کے مناظرے بھی مقابل کے لئے دندان شکن ہوا کرتے تھے۔مگر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کے مناظرہ کا انداز شاذ ہی جارحانہ ہوتا۔آپ ہمیشہ مخالف کی یاوہ گوئی کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل مضمون کے حق میں اپنے نکتہ نظر کی ٹھوس اور پختہ دلائل و براہین سے وضاحت پر اکتفا کیا کرتے تھے۔