حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 264 of 923

حیاتِ خالد — Page 264

حیات خالد 270 مناظرات کے میدان میں اچھی ہوش کے زمانہ میں ( محترم مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش ۲۵ / دسمبر ۱۹۱۴ ء ہے۔مؤلف ) جب میں اپنے والد صاحب کے ساتھ اور بعد میں اکیلے بھی مناظرہ سننے کیلئے باہر دیہات وغیرہ میں جاتا تو اس وقت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جو ان دنوں مولوی اللہ دتا صاحب کہلاتے تھے اور حضرت مولانا محمد یار صاحب عارف مرحوم کی جوڑی ان دنوں میدان مناظرہ میں ایک مثالی جوڑی تھی۔حضرت مولانا ابوالعطاء بہت زیرک اور عالم باعمل متقی انسان تھے۔فریق مخالف پر ان کا علمی رعب طاری رہتا تھا۔جب فریق مخالف گھبرا کر خلاف تہذیب رویہ اختیار کرتا تھا تب بھی آپ کبھی اعلیٰ مومنانہ اخلاق سے گری ہوئی بات نہ کرتے اور ہمیشہ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز رہتے۔اس بات کا بھی پبلک پر بہت اچھا اثر ہوتا کہ احمدی اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔تا ہم آپ حاضر جوابی سے مخالف کو جواب دے لیا کرتے تھے جو آپ کی ذہانت کی علامت ہوتا تھا۔ایک دفعہ آپ کے مقابل پر حافظ احمد دین صاحب تھے۔جنہیں بہت ہی کم دکھائی دیتا تھا اور وہ بہت ناگوار چوٹیں کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے (حضرت) مرزا صاحب کی فلاں تحریر پڑھی ہے۔تو حضرت مولانا نے اپنی باری پر تقریر کرتے ہوئے ہنستے ہوئے فرمایا۔حافظ صاحب آپ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے کہ آپ نے پڑھا ہے آپ تو صرف سن سکتے ہیں اور قرآن مجید میں آیا ہے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمی (بنی اسرائیل :۷۳) اور جو اس دنیا میں اندھار ہے گا وہ آخرت میں ( بھی ) اندھا ہو گا۔اس پر محفل کشت زعفران بن گئی اور پھر حافظ صاحب نے بھی اپنی کچھ اصلاح کی۔حضرت مولانا صاحب کی علمی قابلیت کے غیر از جماعت دوسرے مسلمان بھائی بھی دل سے معترف تھے۔کیونکہ جب ان کا کسی بد زبان آریہ یا عیسائی پادری سے مقابلہ ہوتا تو وہ قادیان کا رخ کرتے کہ مولانا ابو العطاء صاحب کو ہمارے ساتھ بھجوائیں اور جماعت ایسے مواقع پر حضرت مولانا صاحب کو اپنے خرچ پر بھجواتی۔آج بھی میری عمر کے لوگ جو دینا نگر، دھار یوال، سیالکوٹ وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں اس بات کے گواہ ہونگے۔انہیں خوب یاد ہوگا کہ اکثر احمدی علماء کو قادیان سے بلایا جاتا تھا۔اہلحدیث میں سے جناب مولوی ثناء اللہ صاحب مرحوم بھی آریوں اور عیسائیوں سے مقابلہ کرتے تھے۔لیکن ان کا معاوضہ بہت بھاری ہوتا تھا اور حضرت مولانا جو اس وقت ہندوستان کے چوٹی کے مناظر اور عالم تھے بغیر کسی معاوضہ اور خرچہ کے جماعت احمدیہ کی طرف سے جایا کرتے تھے۔