حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 263 of 923

حیاتِ خالد — Page 263

حیات خالد 269 مناظرات کے میدان میں عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم اور مکرم مولوی محمد سلیم صاحب مولوی فاضل مرحوم کو خدا تعالیٰ نے اس خدمت کیلئے منتخب فرمالیا۔آپ نے یہ بھی فرمایا۔( الفضل ۲۲ جون ۱۹۷۷ء ) غیر ممالک سے واپسی کے بعد سید نا حضرت خلیفہ انہی الثانی رضی اللہ عنہ کے پروگرام کے مطابق مجھے بمبئی، کلکتہ، کراچی جیسے بڑے شہروں میں جہاں انگریزی زبان میں بھی کام چلایا جا سکے مقرر کیا جاتا رہا اور مولانا مرحوم کو مرکز سلسلہ میں کام کرنے کے علاوہ جلسوں اور مناظروں کیلئے بھی بھجوایا جاتا رہا۔ایک دفعہ مجھے کلکتہ جانے کا آرڈر مل چکا تھا کہ دہلی میں ایک مناظرہ کیلئے برادر مرحوم بھی تیار ہوئے تو مجھے فرمایا کہ دہلی کے مناظرہ میں حصہ لے کر کلکتہ چلے جانا۔چنانچہ ہم دہلی گئے۔لال قلعہ کے میدان میں ایک سہارنپوری مولوی کے ساتھ مناظرہ ہوا۔حاضری کافی تھی۔مولانا مرحوم مناظر تھے اور میں صدر تھا۔مکرم جناب مولوی غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی بھی ہمارے ساتھ تھے۔غرضیکہ بلا دعر بیہ سے واپسی پر بھی ہمارے مرحوم بھائی پہلے کی طرح خدمت دین میں مصروف رہے اور آہستہ آہستہ مرکز میں بھی کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ہم کبھی کبھار جلسوں میں اکٹھے ہو جاتے تھے اور جوانی میں اکٹھے کام کرنے کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔( الفضل ۲۲ جون ۱۹۷۷ء صفحه ۴ ) 0 جناب محترم ثاقب زیروی صاحب مدیر ہفت روزہ ”لاہور تحریر فرماتے ہیں۔۷۰ سالہ زندگی میں مختلف مذاہب اور فرقوں کے علماء سے سینکڑوں مناظرے اور مباحثے کئے اور خدا کے فضل سے زور علم، زور بیان اور زور دلائل کے باعث ہر معرکہ میں کامگار رہے۔ہر دفعہ اسلام کے پرچم کی اڑان اور دل آویز ہو جاتی رہی اور ہر دفعہ اللہ تعالیٰ کے زندہ مذہب اسلام کے حق میں دلوں کی زمینیں ہموار کر کے لوٹے“۔ہفت روزہ ' لاہور، لاہور 4 جون ۱۹۷۷ء صفحه ۴ و ۱۴) محترم مرزا عطا ء الرحمن صاحب مرحوم ابن حضرت مرزا برکت علی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔0 حضرت مولانا کی خدمت دین کا آغاز مناظرات سے ہوا۔یہ مناظرات کا زمانہ تھا۔عیسائی اور آریہ سماجی ہندو بڑے زور وشور سے اسلام کے خلاف یعنی مختلف فرقہ ہائے اسلام کے خلاف مناظرے کیا کرتے تھے اس کے علاوہ شیعہ سنی ، اہلحدیث آپس میں بھی اور احمدیوں کے ساتھ بھی مناظرے کیا کرتے تھے۔احمدیوں میں بھی غیر مبائعین اور مبائعین کے درمیان مناظرے ہوا کرتے تھے۔میری