حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 261 of 923

حیاتِ خالد — Page 261

حیات خالد 0 وو 267 مناظرات کے میدان میں مناظرات کے بارے میں عمومی تاثرات و آراء محترم ملک محمد عبد اللہ سابق لیکچر ارتعلیم الاسلام کا لج ربوہ سابق مینیجر الفضل لکھتے ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے میری ابتدائی واقفیت تو قادیان میں ۳۲۔۱۹۳۱ء سے تھی کیونکہ یہ عاجز ان دنوں جامعہ احمدیہ کی مبلغین کلاس میں پڑھتا تھا اور حضرت مولا نا چند سال قبل جامعہ احمدیہ سے فارغ ہو کر خدمت دین میں بھر پور حصہ لے رہے تھے۔ان دنوں تبلیغی جلسے اور مناظرے بکثرت ہوتے تھے۔حضرت مولوی صاحب ان ابتدائی دنوں سے ہی جماعت احمدیہ کے ایک نامور عالم، فصیح البیان مقرر اور بلند پایہ خطیب و مناظر تھے۔آپ ہمہ وقت اس تبلیغی اور جماعتی جہاد میں مصروف رہتے۔یہ مناظرے اور جلسے سارے برصغیر میں منعقد ہوتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کی علمی قابلیت ، مناظرانہ صلاحیت اور سحر انگیز خطابت کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں کی جماعت ہائے احمدیہ کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا تھا کہ آپ ان جلسوں یا مناظروں میں ضرور تشریف لائیں اور نظارت دعوة و تبلیغ بھی جس کے ماتحت آپ کام کرتے تھے حتی المقدور احباب جماعت کی خواہش اور درخواست کا احترام کرتی تھی اور پروگرام کے ماتحت جہاں تک ممکن ہو تا حضرت مولانا کو ان اجتماعات میں بھیجا جاتا۔قادیان میں حضرت مولانا کی رہائش محلہ دار الرحمت میں تھی اور میری رہائش بھی اسی محلہ میں تھی اس لئے میں نے اکثر دیکھا کہ حضرت مولانا صاحب شب و روز اس تبلیغی جہاد میں مصروف رہتے۔بسا اوقات آپ ایک جلسہ سے فارغ ہو کر قادیان آتے اور اسی روز کسی اور جماعت کے جلسہ یا مناظرہ کیلئے روانگی ہوتی۔حضرت مولانا صاحب نے ایک درمیانہ جستی ٹرتک اس غرض کیلئے رکھا ہوا تھا جس میں کچھ ضروری کتب اور چند ملبوسات ہر وقت تیار رہتے تھے کیونکہ حضرت مولانا صاحب کے سفر کا کوئی وقت نہیں ہوتا تھا ایک مناظرہ یا جلسہ سے آئے اور دوسرے کیلئے روانگی کا حکم پہلے سے تیار ہوتا تھا اس لئے ادھر آئے اور ادھر دوبارہ روانگی ہو جاتی“۔0 وو مکرم چوہدری عبد الکریم خان صاحب شاہد کا ٹھر گڑھی مرحوم نے لکھا۔متعدد تقریری و تحریری مناظرات، مباحات کئے۔ہر موقعہ پر اللہ تعالی نے ان کو کامیابی سے سرفراز فرمایا۔مباحثہ و مناظرہ (تقریری و تحریری) میں علمی و تحقیقی دلائل کی رو سے اپنے مد مقابل پر ہمیشہ غالب رہتے۔مناظرہ و تقریر کے دوران عموماً کئی لوگ ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے اخلاقی