حیاتِ خالد — Page 249
حیات خالد 255 مناظرات کے میدان میں "" استقلال کا ایک کو وہ وقار تھے جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔مباحثہ گجرات مارچ ۱۹۲۸ء کی رپورٹ ملاحظہ ہو۔باوجود اس کے کہ پادری صاحب نے مولوی صاحب کے متعلق ” بکواس اور خرافات" وغیرہ عامیانہ الفاظ کا استعمال بھی کیا مگر مولانا صاحب نے نہایت صبر و استقلال سے ایسے الفاظ کو بالکل نظر انداز کیا اور اعلیٰ تہذیب کا نمونہ پیش کرتے ہوئے اسلام کا بول بالا کیا“۔( الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء ) اگست ۱۹۲۳ء میں کوہ مری میں غیر مبائعین کے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے مباحثہ ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے پیغام صلح میں چھپوا دیا کہ احمدی دم دبا کر بھاگ گئے حضرت مولانا نے الفضل میں سارے مباحثے کی تفصیل شائع کی اور تمام دلائل کا نمبر وار ذکر کیا۔آخری جملہ آپ کے صبر و حو صلے کو ظاہر کرتا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔" علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کی گالیاں طویل فہرست چاہتی ہیں اس لئے ان کو ترک کرتا ہوں“۔(الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحه ۸) گویا گالیاں سن کر بے مزا نہیں ہوئے بلکہ محض اتنا کہہ کر کہ اس کے بیان کے لئے طویل فہرست چاہئے یہ بات بھی قارئین کو بتادی کہ مخالف نے انتہائی بد زبانی کا مظاہرہ کیا تھا اور ان کو ترک کرتا ہوں“ کہہ کر اپنے بے مثال صبر کا بھی نمونہ دکھا دیا۔جون ۱۹۳۶ء میں گوجرانوالہ میں عبداللہ معمار امرتسری صاحب کے ساتھ مباحثہ ہوا۔عبداللہ معمار صاحب نے ہر ممکن بد اخلاقی کا مظاہرہ جاری رکھا۔صاحب صدر نے (جو ایک معزز غیر احمدی تھے ) بار بار انہیں روکا۔حضرت مولانا صاحب نے ان ساری کوششوں کے باوجود صبر و حوصلہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔وو ” جب مناظرہ ختم ہوا تو سلیم الطبع لوگوں پر اتنا گہرا اثر چھوڑ گیا کہ مخالفین نے بھی جناب مولوی ابو العطاء صاحب کی شرافت علمیت سنجیدگی اور وسیع حوصلگی کا اعتراف کیا اور آپ کے طرز کلام پر خوشی (الفضل ۲۷ جون ۱۹۳۶ ء صفحه ۹ ) کا اظہار کیا۔مناظرہ کی بنیاد وسیع مطالعہ اور ٹھوس علم پر ہے جس وسیع مطالعہ اور زبر دست خود اعتمادی سے زبر دست خود اعتمادی آتی ہے۔حضرت مولانا سخت محنت کر کے علم حاصل کرنے والے عالم دین تھے اس لئے آپ کو اپنی معلومات پر ہمیشہ بھر پور اعتماد ہوتا تھا۔آپ جو بات کرتے ہمہ جہتی خود اعتمادی سے کرتے تھے۔۳۱ / دسمبر ۱۹۳۰ء و یکم جنوری ۱۹۳۱ء میں موضع کر والیاں ( متصل دھرم کوٹ بگہ ) میں غیر احمدیوں کے مناظر مولوی محمد امین صاحب نے ایک