حیاتِ خالد — Page 248
حیات خالد 254 مناظرات کے میدان میں اگر یہی عزت وذلت کا معیار ہے تو کیا آپ کے نزدیک حضرت امام حسین کی ذلت ہوئی تھی جو آپ کو یزیدی فوج نے پیاس کی حالت میں تڑپا تڑپا کر شہید کیا تھا ؟ مولوی کرم دین صاحب حیران رہ گئے۔مولوی کرم دین صاحب کی ساری شیخیاں کرکری ہو گئیں اور وقت پورا ہونے سے قبل ہی دم بخود ( الفضل ۲۱ / دسمبر ۱۹۲۸ء) نومبر ۱۹۳۰ء میں لاکپور ( اب فیصل آباد) میں غیر احمدی مناظر نے ایک مرحلہ پر کہا کہ مرزا ہو گئے۔صاحب ( نعوذ باللہ ) پاگل تھے۔انہیں دماغی بیماری تھی۔حضرت مولانا صاحب نے زبر دست حاضر جوابی سے جوابی حملہ کیا۔اگر حضرت مرزا صاحب نعوذ باللہ پاگل تھے تو پھر آپ لوگوں سے بڑھ کر کوئی پاگل نہیں ہوسکتا جو ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔تم لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں اس شدت سے کمر بستہ رہنا ہی صاف بتاتا ہے کہ تمہارے دل گواہ ہیں کہ حضرت مرزا صاحب پاگل نہ تھے۔(الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۰ء صفحه ۸ ) حضرت مولانا صاحب کی عمر ۲۱ ۲۲ سال تھی ابھی مبلغین کی کلاس میں زیر تعلیم تھے کہ ایک ہندو پنڈت دھرم بھکشو سے آپ کا مناظرہ ہوا۔پنڈت صاحب نے دوران مناظرہ کہا کہ انہیں فوری طور پر روانہ ہونے کیلئے تار ملا ہے اور کہا کہ خواہ آپ میری شکست سمجھیں مگر میں مجبور ہوں میں آپ سے معافی چاہتا ہوں“۔حضرت مولانا صاحب کی حاضر جوابی دیکھئے فورا بولے۔اگر آپ مجبور ہیں اور آپ معافی مانگتے ہیں تو اگر چہ آریوں کا ایشور تو معاف نہیں کیا کرتا۔ہمارا رب معاف کر دیتا ہے اس لئے ہم معاف کرتے ہیں۔" حضرت مولانا اپنے اس برجستہ جواب کے بارے میں فرماتے ہیں۔یہ جواب جس میں آغاز جوانی کی شوخی بھی پائی جاتی تھی۔پنڈت جی کو بہت چبھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ پھر میں معافی نہیں مانگتا۔میں نے کہا پھر ہم آپ کو جانے نہ دیں گے۔پورا مقررہ وقت مناظرہ (الفرقان ربوہ اپریل ۱۹۶۹ء صفحه ۴۶ - ۴۷) کریں۔حضرت مولانا کے مناظروں کی خاص بات مخالف کی سخت سے سخت گفتگو بے مثال صبر و حوصلہ سن کر بھی صبر و حوصلہ کا دامن نہ چھوڑ نا تھا۔اس میدان میں گویا آپ صبر و