حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 245 of 923

حیاتِ خالد — Page 245

حیات خالد 251 مناظرات کے میدان میں خان صاحب سابق امام مسجد فضل لندن، محترم محمود احمد خان صاحب سابق امیر جماعت پشاور ) نے دیلی کے مسلمانوں کی مشہور درس گاہ اینگلو عربیک کالج میں ہی تعلیم پائی۔ہائی سکول کی بھی اور کالج کی بھی۔کالج کے اس زمانہ میں جب کہ میں سیکنڈ ائر میں تھا اور میرے بھائی مولود احمد خان صاحب مرحوم تھرڈ ائر میں تھے صبح اسمبلی کے پیریڈ میں بعض مشاہیر کے ارشادات سے طلبہ کو مستفیض کرنے کا انتظام کیا گیا۔چنانچہ مولانا ابوالاعلی مودودی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی ایڈیٹر رسالہ برہان اور کئی دیگر سر بر آوردہ احباب کو خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔کالج کے تمام اساتذہ آزاد خیال اور فراخ دل لوگ تھے۔ویسے بھی قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ نے ملک میں اتحاد بین المسلمین کی ایسی فضا پیدا کر دی تھی کہ تعصب باقی نہ رہا تھا۔اس لئے مولانامحمد علی صاحب امیر احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کو بھی دعوت دی گئی اور ان کا خطاب بھی احترام سے سنا گیا۔اب ہم نے سوچا کہ ہم بھی پرنسپل صاحب کو اپنے کسی بزرگ کو بلانے کا مشورہ دیں۔چنانچہ ہم محترم خورشید احمد چشتی صاحب پرنسپل کالج سے ملے اور اپنی درخواست پیش کی۔وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ جب آپ کے کوئی عالم قادیان سے دہلی تشریف لائیں تو مجھ کو بتا ئیں۔ہم باہر سے کسی کو کرایہ دیکر نہیں بلاتے۔دہلی ایسی جگہ ہے جہاں سب آتے رہتے ہیں۔ہم بھی اپنی درخواست لیکر ان کی خدمت میں پہنچ جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ تقریر خالصتاً غیر اختلافی موضوع پر ہو اور نہ ہی تقریر کے دوران کسی اختلافی مسئلہ کا ذکر آئے۔ہم نے پرنسپل صاحب کی یہ دونوں باتیں مان لیں۔اتفاق سے جلد ہی ہماری جماعت دہلی کا سالانہ جلسہ آ گیا اور اس میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی تشریف آوری کا ہم کو پتہ چلا۔ہم دوبارہ پرنسپل صاحب کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ ہمارے ایک جید عالم تشریف لا رہے ہیں۔آپ ان کے نام رقعہ دے دیں اور جس موضوع پر تقریر کرانا پسند کریں وہ بھی تجویز کر دیں۔انہوں نے خط دے دیا اور درخواست کی کہ اسلامی اخلاق کے موضوع پر خطاب فرما ئیں۔خط قادیان بھیج دیا گیا۔حضرت مولانا کا اثباتی جواب آ گیا اور دن بھی مقرر کر دیا گیا۔وقت تو پہلے سے طے تھا کہ کالج کی اسمبلی کا پیریڈ ہوگا۔وقت مقررہ پر ہمارے بھائی محترم مسعود احمد خان دہلوی صاحب، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لایکوری کو لے کر اسمبلی سے چند منٹ قبل کار میں کالج تشریف لے آئے۔پرنسپل صاحب نے اپنے دفتر میں علمائے کرام کا خیر مقدم کیا۔چند منٹ باتیں ہوئیں۔اسمبلی کی گھنٹی بھی تو پرنسپل صاحب