حیاتِ خالد — Page 234
حیات خالد 240 مناظرات کے میدان میں کو چاہئے کہ کوئی ایسا کلمہ استعمال نہ کریں جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوں۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء خاکسار - شیخ محمد یوسف۔سیکر ٹری جماعت احمدیہ۔لائل پور مباحثہ دہلی الفضل قادیان ۱۲ نبوت ۱۳۲۰ هش /۱۲ نومبر ۱۹۴۱ء ) تاریخ احمدیت جلد و ہم صفحہ ۲۳۵، ۲۳۶ میں اس مباحثے کا ذکر تفصیل ذیل کیا گیا ہے۔ریه ترک شانسی سجاد علی نے ایک کھلا چیلنج شائع کر کے تمام مذاہب کو دعوت مناظرہ دی تھی جو انجمن احمد یہ دہلی نے منظور کر لی۔چنانچہ ۳ / تبلیغ رفروری ۱۳۲۳ بش / ۱۹۴۴ء کو دیوان ہال دہلی میں ” و یدک دھرم عالمگیر ہے یا نہیں؟“ کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب نے نمائندگی کی۔جو دوروز قبل اسی جگہ ” میرے مذہب میں عورت کا مقام کے موضوع پر بھی کامیاب لیکچر دے چکے تھے۔اس مناظرہ میں اسلام کو ایسی بین اور نمایاں فتح نصیب ہوئی کہ غیروں تک نے اس کا اقرار کیا۔خصوصاً مسلمانوں کو اس عظیم الشان کامیابی سے بہت خوشی ہوئی۔ہجوم کا یہ عالم تھا کہ تمام دیوان ہال ، اس کی گیلریاں ، دروازے اور کھڑکیاں تک لوگوں سے پر تھیں۔تاریخ احمدیت جلد دهم صفحه ۳۲۵، ۲۳۶) اس مباحثہ دہلی کے بارے میں مکرم شیخ محمد حسن صاحب مرحوم آف لندن لکھتے ہیں : - ۱۹۴۴ء میں آریہ صاحبان نے کھلا چیلنج دیا تھا کہ ہم سے آکر مناظرہ کر لیں کہ ویدک دھرم (ہندو مذہب عالمگیر مذہب ہے۔وہ یہ ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں کہ ہمارا مذ ہب تمام دنیا کیلئے ہے۔اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے غیر از جماعت علماء آئے اور مناظرے کئے لیکن عوام کی تسلی نہ ہوئی۔خاکسار نے جامع مسجد دہلی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے منہ سے یہ بات سنی کہ کل کو مزا آئے گا جب قادیانی مقابلہ پر آئیں گے۔اگلا دن آیا اور مناظرہ ہونے لگا تو دیوان ہال عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔یہاں تک کہ ہال کے اندر جانے کا راستہ مسدود ہو گیا۔خواتین کیلئے گیلری میں انتظام تھا۔مناظرہ کی شرا ئکا طے ہوئیں اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے پہلی تقریر کی۔آپ نے دس نکات بیان کئے کہ ویدک دھرم عالمگیر مذہب قرار نہیں پاتا۔ان زبر دست دلائل کا آریوں کے پاس کچھ جواب نہ تھا سوائے بغلیں جھانکنے کے۔جب ان کو اور کچھ نہ سوجھا تو اعتراض کیا کہ آپ کو تو آپ کے مذہب والے مسلمان نہیں سمجھتے۔یعنی احمدی ہونے کی وجہ سے آپ مسلمان نہیں ہیں لہذا ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں