حیاتِ خالد — Page 233
حیات خالد 239 مناظرات کے میدان میں میں ہم مناظرہ کیلئے ہر وقت تیار ہیں" کے عنوان سے مفصل حالات درج کر دیئے۔اس پر غیر مبائعین نے لکھا کہ مناظرہ پرائیویٹ ہوگا مگر غیر احمدی شرفاء کو اس میں بلایا جا سکے گا۔ہم نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ ضرور شامل ہوں۔مناظرہ حاجی شیخ میاں محمد صاحب کی کوٹھی کے احاطہ میں ہوا ہماری طرف سے مناظر مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری تھے اور ان کی طرف سے سید اختر حسین صاحب۔پریذیڈنٹ فریقین کی طرف سے علی الترتیب جناب قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری اور مرزا مظفر بیگ صاحب ساطع۔ہماری طرف سے قرآن کریم، احادیث، متعدد اقوال بزرگان اور لغت سے ثابت کیا گیا کہ غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے۔غیر مبائعین کے مناظر کو چند لغت کے حوالہ جات پر خاص ناز تھا مگر مولوی ابوالعطاء صاحب نے مفردات راغب سے خاتم کے معنوں میں ایسا بین حوالہ پیش کیا جس کا سید اختر حسین صاحب آخر تک کوئی جواب نہ دے سکے۔حوالہ میں صاف مذکور تھا کہ ختم کے معنی تو صرف دو ہیں اوّل هُوَ تَأْثِيْرُ الشَّيْءِ كَنَقْشِ الْخَاتَمِ وَالطَّابِع دوم الْاثْرُ الْحَاصِلُ عَنِ النَّفْشِ یعنی مہر کا اپنے نقوش سانشان پیدا کرنا اور وہ پیدا شدہ نشان۔ہاں مجازی طور پر مضبوط باندھنے اور بند کرنے کے معنی میں بھی ختم کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔سید اختر حسین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اجرائے نبوت کے متعلق بالکل واضح حوالہ جات کی طرف تو توجہ ہی نہ دی ہاں من الرحمن کے ایک حوالہ پر بار بار زور دیا۔جب اس حوالہ کا ترجمہ نیچے سے پڑھ کر سنایا گیا تو سید صاحب کہنے لگے یہ ترجمہ غلط ہے۔لہذا حضرت صاحب کا نہیں ہوسکتا کسی اور نے کیا ہو گا۔ہم نے کہا اس کا ثبوت ؟ اور کیا آپ یہ لکھ کر دینے کیلئے تیار ہیں۔۔اس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔مگر بار بار اس امر پر زور دیا کہ ترجمہ غلط ہے۔چنانچہ کہنے لگے کہ کسی غیر احمدی عالم سے دریافت کر لیا جائے کہ آیا یہ ترجمہ صحیح ہے یا غلط۔ہم نے کہا غیر احمدی مولوی کو ہم اس بارہ میں حکم ماننے کیلئے تیار نہیں۔اس پر انہوں نے اپنی پارٹی کے ایک مولوی صاحب کو کھڑا کرنا چاہا مگر انہوں نے کہہ دیا کہ میں حضرت صاحب کے ترجمہ کو احمدی ہو کر کیسے غلط کہہ سکتا ہوں۔پھر انہوں نے ایک غیر احمدی سے کہلایا کہ یہ ترجمہ غلط ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ نہایت کامیاب رہا۔غیر مبائعین اور غیر احمدی شرفاء پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔جناب میاں محمد صاحب نے جن کی کوٹھی کے احاطہ میں یہ مناظرہ ہوا نہایت شرافت کا ثبوت دیا۔مناظرہ کی ابتداء میں دونوں فریقین کو نصیحت کی کہ ہم اختلافات کو نیک نیتی کے ساتھ رفع کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔فریقین