حیاتِ خالد — Page 232
حیات خالد 238 ہمارے فاضل مناظر کی تقریروں کا بہت اچھا اثر ہوا۔مناظرات کے میدان میں خاکسار- عبدالحمید۔سیکرٹری تبلیغ انجمن احمد یہ۔دہلی روزنامه الفضل قادیان دارالامان ۱۳ را پریل ۱۹۴۱ء) پنڈت رام چندر جی کے ساتھ ہونے والے اس مباحثے کا ضمنی ذکر محترم ایک عینی شاہد کا بیان پروفیسر سعو د احمد خان صاحب نے درج ذیل الفاظ میں فرمایا :- ایک دفعہ جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو آریوں کی طرف سے دعوت مناظرہ پر قادیان سے حضرت مولا نا تشریف لائے۔آپ امیر جماعت احمد یہ دہلی محترم با بونذیر احمد صاحب کے مکان واقع بلی ماراں میں فروکش تھے۔میں امتحانات سے فارغ تھا۔حضرت مولانا کی زیارت اور شوق ملاقات میں وہاں چلا گیا۔وہلی کی جماعت کے سیکرٹری اصلاح و ارشاد محترم مولوی عبدالحمید صاحب کی طرف سے ایک صاحب شرائط مناظرہ حضرت مولانا کو دکھانے لائے جو آریوں نے بھجوائی تھیں۔مولانا نے ان میں اصلاح چاہی۔حضرت مولانا نے فرمایا کہ آریوں کی طرف سے کون صاحب بطور مناظر پیش ہونگے ؟ معلوم ہوا کہ پنڈت رام چندر ہو نگے۔وہ بلی ماراں کے قریب ایک اور محلہ میں رہتے ہیں۔حضرت مولانا نے فرمایا چلو د ہیں چلتے ہیں۔میں حیران ہو گیا حضرت مولانا ایک دم چلنے کو تیار ہو گئے۔نہ تانگہ منگوایا نہ کوئی سواری طلب کی پیدل ہی روانہ ہو گئے اور پنڈت رام چندر جی کے پاس پہنچ گئے۔میں بھی ساتھ تھا۔امیر صاحب تو اس وقت اپنے کام پر گئے ہوئے تھے ورنہ وہ ضرور تانگہ یا سواری کا انتظام کر دیتے۔پنڈت رام چندر حضرت مولانا کے ساتھ بہت عزت سے پیش آئے۔ان کے بھائی ستار تھے ان کی دوکان وہیں گھر کے پاس تھی۔اس دکان پر بیٹھ کر حضرت مولانا نے پنڈت رام چندر صاحب کے ساتھ مناظرہ کی شرائط طے کیں اور ایسی خوش اسلوبی سے بات کی کہ جس طرح آپ فرماتے گئے پنڈت جی اسی طرح مانتے گئے۔رمضان المبارک سے قبل غیر مبائعین کی انجمن کی لائل پور میں غیر مبائعین سے مناظرہ طرف سے ہمیں ایک چیلنج موصول ہوا کہ ہمارے ساتھ ختم نبوت پر مناظرہ کر لو۔ہم نے فوراً منظور کر لیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ مناظر و تحریری ہو اور پرائیویٹ ہو یعنی صرف دونوں جماعتوں کے احباب تبادلہ خیالات کریں۔مگر غیر مبائھین نے دونوں باتوں کا انکار کر دیا اور قادیانیوں کا مناظرہ سے فرار کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کر دیا ہم نے جواب