حیاتِ خالد — Page 228
حیات خالد 234 مناظرات کے میدان میں معاملہ۔سواحمد بیگ اپنی تکذیب و استہزاء پر قائم رہا اس لئے پیشگوئی کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر ہلاک ہو گیا۔مرزا سلطان محمد صاحب نے اپنے خسر کی مطابق پیشگوئی موت کو دیکھ کر اپنے رویہ میں تبدیلی کی جس کا ثبوت وہ خط ہے جس کا عکس ہم نے شائع کیا ہے۔جس میں مرزا سلطان محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نیک ، بزرگ اور خادم اسلام “ لکھا ہے۔دوسرا ثبوت اس تبدیلی کا یہ ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے چیلنج کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ :- فیصلہ تو آسان ہے احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں“ (انجام آنقم صفحه ۳۲ حاشیه ) مگر باوجود یکہ اس چیلنج کے بعد دس سال تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ رہے کسی نے سلطان محمد صاحب سے تکذیب کا اشتہار نہ دلایا۔پس اس کا وعیدی موت سے بچ رہنا اسی طرح ہے جس طرح فرعونیوں پر سے رجوع ناقص کے بعد بار بار عذاب ٹل جاتے تھے۔یا حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل گیا تھا۔مرزا احمد بیگ پیشگوئی کے مطابق چھ ماہ کے اندر اندر مر گیا۔لہذا اس پیشگوئی کے کسی حصہ پر بھی اعتراض نہیں ہو سکتا۔(۲) میرے اس جواب پر اہلحدیث مناظر نے کہا کہ مرزا احمد بیگ کا چھ ماہ میں مر جانا پیشگوئی کے خلاف ہے۔کیونکہ اس کیلئے تین سال تک کی مدت مقررتھی اور سلطان محمد کیلئے اڑھائی سال کی۔لہذا احمد بیگ کا چھ ماہ میں مرجانا پیشگوئی کے خلاف ہے۔اس پر میں نے کہا کہ تبلیغ رسالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار میں لکھا ہے کہ تین سال بلکہ قریب عرصہ میں احمد بیگ ہلاک ہوگا۔یعنی تین سال پورے ہونے ضروری نہیں۔معمار صاحب نے اس کا انکار کیا اور اس بات کے ایک ہفتہ تک دکھا دینے پر پچاس روپیہ انعام دینے کا بھی اعلان کر دیا۔میں نے دوران مناظرہ ان سے بار بار اس انعامی چیلنج کے لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا مگر سامعین گواہ ہیں کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے اس چیلنج کو لکھنے سے گریز کیا۔جب مناظرہ ختم ہو گیا تو اپنی خفت مٹانے کیلئے کہنے لگے کہ میں اب لکھ دیتا ہوں۔بشرطیکہ آپ لکھ دیں کہ اگر آپ نے کل ۳ مارچ کو تبلیغ رسالت سے حوالہ نہ دکھایا تو آپ جھوٹے ہوں گے میں نے کہا کہ اب زائد شرطیں لگانے کی ضرورت نہیں۔اپنے پہلے پہینچ پر قائم رہ کر اسے لکھ دیں مگر وہ انکار کرتے رہے۔ہمارے مطالبہ سے تنگ آکر مولوی عبداللہ صاحب معمار چپکے سے ہمارے پیج پر