حیاتِ خالد — Page 226
حیات خالد 232 مناظرات کے میدان میں جواب دیں تو ان کی عجیب حالت تھی۔پریشان ہو کر کہنے لگے کہ یہ ترجمہ کی غلطی ہے میں نے کہا کہ یہ عجیب غلطی ہے کہ جہاں جہاں عین موقع تھا وہاں پر ہی اس غلطی کا ظہور ہوا ہے۔کہیں فقرے ہی غائب ہیں کہیں ترجمہ میں تبدیلی ہے کہیں ایزادی ہے اور یہ ایک کتاب کے اُردو ایڈیشن کا حال ہے۔اس صورت میں بہائیوں کی کتابوں پر کیو عمر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بہائی مبلغین خاموش ہو گئے۔خاکسار ابوالعطاء جالندھری (روز نامه الفضل قادیان دار الامان ۱۳ تبوک ۱۳۱۹ هش ۱۳۰ ستمبر ۱۹۴۰ء)۔۱۲ صلح (جنوری ۱۹۴۱ء) کو دھار یوال میں احراری مولوی سے کامیاب مناظرہ جماعت احمدیہ فجوپورہ دھار یوال اور غیر احمد یوں میں ایک کامیاب مناظرہ ہوا۔معزز غیر احمدیوں کے کہنے پر موضوع اجرائے نبوت غیر تشریعی مقرر ہوا۔احراری مولوی محمد حیات صاحب کے اصرار پر وقت صرف ڈیڑھ گھنٹہ مقرر ہوا۔غیر احمدیوں کی طرف سے جناب سید اولاد حسین صاحب صدر تھے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی عنایت الله جالندھری صاحب مولوی فاضل صدر مقرر ہوئے۔مناظرہ نہایت امن سے ہوا۔سامعین پر احمدی مناظر مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری کے بیان کردہ دلائل آیات و احادیث کا خاص اثر تھا۔مناظرہ کے خاتمہ پر احمدی صدر نے سامعین کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے درخواست کی کہ اس طرح پر امن طریق پر حیات مسیح پر بھی مناظرہ کر لیا جائے۔مگر غیر احمدی مناظر مولوی محمد حیات صاحب نے صاف انکار کر دیا۔مناظرہ کے بعد دو افراد داخل سلسلہ احمد یہ ہوئے۔الحمد للہ (نامہ نگار ) (الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۴۱ء صفحه ۶ ) ۲۳ تبلیغ ۱۳۲۰ هش (۲۳ فروری ۱۹۴۱ء) کو انجمن انجمن اسلامیہ روہڑی سے مباحثہ اسلامیہ روہڑی اور جماعت احمد یہ کھر کے مابین ایک مناظرہ بمقام روہڑی منعقد ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا ابوالعطاء صاحب نے اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے لال حسین صاحب اختر نے مناظرہ کیا۔پہلا مناظرہ حیات مسیح اور رفع الی السماء پر تھا۔مولوی ابوالعطاء صاحب نے پندرہ آیات، دس احادیث اور اقوال بزرگان سلف اور اجماع صحابہ سے وفات مسیح ثابت کر دکھائی۔مگر غیر احمدی مناظر ان دلائل کا جواب دینے اور اپنے دعوی کو ثابت کرنے کی بجائے ادھر ادھر کی باتوں میں الجھے رہے۔دوسرا مناظرہ مسئلہ ختم نبوت پر تھا۔