حیاتِ خالد — Page 224
حیات خالد 230 مناظرات کے میدان میں وَفِي إحْدَى مُحَادَ ثَاتِهِ فِي لَنْدَنْ قَالَ يَصِحُ أَنْ يَكُوْنَ الْإِنْسَانُ بَهَائِيًّا وَلَوْلَمْ يَسْمَعْ بِاسْمِ بَهَاءِ اللَّهِ (صفحہ ۷۷) یعنی عبد البہاء نے لنڈن میں ایک گفتگو میں کہا کہ ہو سکتا ہے ایک انسان بہائی ہو اگر چہ اس نے کبھی بہاء اللہ کا نام بھی نہ سنا ہو۔اُردو ترجمہ میں یہ عبارت صفحہ ۸۲ پر ہونی چاہیے تھی۔لیکن ماقبل ومابعد کے فقرات موجود ہیں اور یہ عبارت غائب ہے۔یہ تحریف کی کھلی مثال ہے۔معلوم ہوتا ہے اس تم کے فرضی بہائیوں کو مد نظر رکھ کر بہائی اپنی تعداد میں بے حد مبالغہ کیا کرتے ہیں۔حیفا میں بہائی بہت تھوڑے ہیں انگریزی عصر جدید میں عبد البہاء کے متعلق لکھا ہے۔He was indeed a loving father not only to the little community at Haifa, but to the Bahai Community throughout the world۔(p۔82) اس عبارت کا عربی ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے۔وكان في الحقيقة ابا شفوقا لجميع البهائيين فى العالم وليس فقط لجماعة البهائيين القليلة في حيفا ( صفحه ال ) اُردو تر جمہ میں لکھا ہے۔آپ نہ صرف احبائے حیفا کے لئے بلکہ کل دنیا کے اہل بہاء کیلئے ایک پر محبت باپ کی طرح تھے۔(صفحه ۷۵) اس جگہ قابل ملاحظہ یہ امر ہے کہ اُردو ترجمہ میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے کہ اس سے یہ امر ظاہر نہ ہو سکے کہ حیفا جو بہائیوں کا مرکز کہلاتا ہے وہاں ان کی تعداد نہایت تھوڑی ہے۔انگریزی میں Little Community کا لفظ صاف ہے۔عربی میں ”الْجَمَاعَةُ الْقَلِيْلَةُ» موجود ہے مگر اُردوترجمہ میں احبائے حیفا" لکھ کر قلت تعداد کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔بہائی شریعت میں نماز عبد البہاء نے مسلمانوں کی اقتداء میں نماز جمعہ پڑھی باجماعت منسوخ ہے۔بہائیوں کی نماز علیحدہ ہے مگر عبد البہاء آفندی کا طریق یہ تھا کہ وہ عیسائیوں کے گرجا میں بھی نماز پڑھ لیتا تھا اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی امام کی اقتدا میں نماز پڑھ لیا کرتا تھا تا اس طرح بہائیت کا اصل چہرہ مخفی رہے اور ہر فریق بہائیوں کو اپنے میں سے سمجھے۔انگریزی عصر جدید میں ایک واقعہ یوں لکھا ہے۔