حیاتِ خالد — Page 223
حیات خالد 229 مناظرات کے میدان میں بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ سید علی محمد صاحب نے جو باب پر البیان بہاء اللہ نے وحی کی تھی کتاب البیان تصنیف کی تھی وہ دراصل بہاء اللہ نے اس کو وحی کی تھی خود بہاء اللہ نے مجموعہ اقدس میں اپنے آپ کو ” منزل البیان قرار دیا ہے اسی بناء پر ہے۔ای۔اسلیمنٹ مصنف رسالہ ” بہاء اللہ و عصر جدید نے لکھا۔The Bab as we have seen, declared that his revlation, the Bayan, was inspired by and emanated from him whom God shall make manifest۔(p۔60) اس عبارت کا عربی کتاب میں یوں ترجمہ کیا ہے۔وقد قرر الباب كلما ذكرنا ان البيان قد اوحى اليه ممن يظهره الله (صفحه ۵۳) یعنی باب نے اعلان کیا ہے کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ کتاب البیان اس پر من يظهره اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے بہائیوں کے ہاں من يظهره الله بیا ء اللہ کو کہتے ہیں۔مقام حیرت ہے کہ اس کتاب کے اصل انگریزی نسخہ اور عربی ترجمہ میں تو مذکورہ بالا بیان موجود ہے۔مگر اس کے اُردو ترجمہ میں سے جو مولوی محفوظ الحق صاحب علمی کے اہتمام سے شائع ہوا ہے یہ عبارت بالکل محذوف ہے۔اُردو ترجمہ کے صفحہ ۵۶ پر یہ فقرات ہونے چاہئیں تھے مگر اس کے آگے پیچھے کے فقرے موجود ہیں۔یہ عبارت مفقود ہے اس سے ظاہر ہے کہ تازہ بہائیوں کو خیال پیدا ہوا کہ اگر ہندوستان میں اُردو میں یہ لکھ دیا گیا کہ البیان بہاء اللہ نے باب پر وحی کی تھی تو بہاء اللہ کا دعوی الوہیت چھپایا نہ جاسکے گا اس لئے انہوں نے اس کو حذف کر دیا۔بہاء اللہ کے پہلے جانشین بہائی بننے کیلئے بہاء اللہ کا نام تک سننا ضروری نہیں عبد البہاء نے مغربی ممالک میں بہائیت کو جس رنگ میں پیش کیا وہ اس سے بہت مختلف ہے جو خود بہاء اللہ نے بیان کی ہے۔عبد البہاء کا ایک بیان انگریزی نسخہ عصر جدید میں یوں درج ہوا ہے۔In one of his London talks he said that a man may be a Bahai even if he has never heard the name of Bahaullah۔(p۔91)۔عربی نسخہ میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا۔