حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 222 of 923

حیاتِ خالد — Page 222

حیات خالد 228 مناظرات کے میدان میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اگست بہائی مبلغین سے دلچسپ گفتگو ۱۹۴۰ء میں بہائی مبلغین سے جو گفتگو کی وہ آپ نے الفضل میں خلاصہ شائع کروائی۔حضرت مولانا نے بہائیت کے رد میں جو شاندار لٹر پچر چھوڑا ہے وہ جماعت احمدیہ کی ایک شاندار متاع اور اہل بہاء پر حجت کا ملہ کا درجہ رکھتی ہے۔ذیل میں حضرت مولانا کی تحریر میں مذکورہ بالا گفتگو پیش ہے۔(مؤلف) سری نگر میں ۲۵ اگست (۱۹۴۰ء) تک کے لئے بہائی دفتر کھولا گیا تھا جس میں 9 بجے سے ۱۰ بجے تک ایک گھنٹہ سوالات اور تحقیقات کیلئے رکھا گیا تھا میں نے حتی المقدور کوشش کی کہ اس وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے تا سامعین پر بہائی مذہب کی حقیقت منکشف ہو جائے۔حاضرین کی اوسط تعداد سات آٹھ ہوتی تھی۔پہلے ایک دوروز کے بعد بہائیوں نے ہر طرح کوشش کی کہ اول تو مجھے وقت نہ دیں اور اگر تھوڑا سا وقت دیں تو اپنے جواب کو بلا وجہ اتنا لمبا کریں کہ اسی میں چند منٹ پورے ہو جائیں۔بعض اوقات علمی صاحب اور صمدانی صاحب نے "آپ خاک سمجھتے ہیں '' آپ کو شرم کرنی چاہئے ایسے غیر مہذب الفاظ استعمال کر کے بھی اس سلسلہ سوالات کو بند کرنا چاہا مگر ہمارے اسلامی اخلاق کے ماتحت ان کی یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی۔احمدی احباب نے ایسے موقع پر خاص طور پر اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھایا۔میں نے ان سوالات اور جوابات کے مختصر نوٹ لے لئے تھے چونکہ یہ گفتگو بہت دلچسپ تھی اس لئے اس کا خلاصہ چند اقساط میں درج اخبار ہوگا۔انشاء اللہ بہائی لوگ جس طرح اپنی بنیادی کتابوں کو مخفی اہل بہاء کی تازہ تحریف کے چند نمونے رکھتے ہیں وہ تو ای نا قابل فہم معمہ ہے لیکن جن کتابوں کو یہ لوگ شائع بھی کرتے ہیں ان میں بھی حسب منشاء تحریف کر دیتے ہیں۔بسا اوقات تاریخ طباعت ، مصنف کا نام بلکہ کتاب کا نام تک ظاہر نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان لوگوں کا مقصد کیا ہے ؟ اس پہلو سے بہائی لٹریچر نہایت ناقابل اعتبار ہے۔ابھی تک بہاء اللہ کی الواح غیر مطبوعہ کی تعداد کوئی ایک ہزار بتاتا ہے اور کوئی دو ہزار تا حسب موقع اس میں اضافہ ہو سکے اور مناسب الواح ایجاد کی جاسکیں۔میں نے ایام گفتگو میں ایک دن بہائیوں کی مشہور کتاب ”بہاء اللہ وعصر جدید کے اُردو ایڈیشن اور اصل انگریزی و عربی ترجمہ میں مقابلہ کر کے بتایا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں اس کتاب کا جو اردو تر جمہ دیا جاتا ہے اس میں کس طرح تغیر کیا گیا ہے۔چند نمونے درج ذیل ہیں۔