حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 220 of 923

حیاتِ خالد — Page 220

حیات خالد 226 مناظرات کے میدان میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں پادریوں سے چند سوالات کے علاوہ انہیں عام دعوت بھی دی کہ اسلام اور عیسائیت کے مسائل میں فیصلہ کرلیں اور مسلمانوں سے درخواست کی کہ جہاں کہیں پادری صاحبان گفتگو کرنا چاہیں ہمیں اطلاع دی جائے ہم وہاں گفتگو کیلئے پہنچ جائیں گے۔پادری صاحب کے پاس یہ اشتہار پہنچائے گئے لیکن انہوں نے گفتگو کرنے سے معذرت کی مگر تحقیقات کرتے رہے اور بعد میں پادری صاحب حق کو پاگئے اور مسلمان ہو گئے۔بہائیوں سے گفتگو (۲) مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل غیر مبائع سے بہائی بن کر بہائیت کا پرو پیگنڈا کر رہے تھے اس لئے مولانا ابوالعطاء صاحب موصوف نے ان کے مقابلہ میں بھی ایک اشتہار قرآن مجید زندہ کتاب اور غیر منسوخ شریعت ہے“ کے عنوان سے شائع کیا جس میں اہل بہاء کو کھلی دعوت دی کہ وہ ہم سے قرآنی شریعت کے شیخ اور عدم نسخ پر فیصلہ کن طور پر تحریری و تقریری مناظرہ کر لیں۔مولانا موصوف نے خواجہ غلام نبی صاحب کے مکان پر بہائیت اور قرآن کے دائی شریعت کے موضوع پر دو تقریریں بھی کیں۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل سے خط و کتابت شروع ہوئی مگر مولوی عبداللہ صاحب نے تحریری و تقریری مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد مولانا موصوف نے مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل کو لکھا کہ دوسرا موضوع گفتگو یہ مقرر کر لیں کہ آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا۔۔۔الخ کے معیار کی رو سے کون سچا ثابت ہوتا ہے۔جناب بہاء اللہ یا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام۔اس اثناء میں بہائی مبلغ مولوی محفوظ الحق علمی اور بختیاری صاحب بھی سرینگر پہنچ گئے اور ۲۵ / اگست تک سری نگر میں دفتر بہائی کھولنے کا اعلان کر دیا۔مگر اس کے باوجود انہوں نے مباحثہ کرنے سے نفی میں جواب دیا۔اس کے بعد مولانا موصوف نے ایک دوسرا اشتہار بہائیوں کے نام کھلا چیلنج " شائع کیا۔جس میں مولوی علمی صاحب کو خصوصیت سے نسخ قرآن نیز بہاء اللہ کے دعوئی الوہیت پر بحث کی دعوت دی۔مگر بہائیوں نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔اس کے بعد مولانا موصوف نے سولہ صفحات کا ایک ٹریکٹ ” قرآنی معیار وَلَوْ تَقَوَّل کے مطابق کون سچا ثابت ہوتا ہے بہاء اللہ ایرانی یا حضرت احمد قادیانی ؟ طبع کرا کر ۲۵ / اگست کو بہائی دفتر کے بند ہوتے وقت وہاں تقسیم کر دیا اور دیگر مقامات پر بھی تقسیم کرایا گیا۔مولانا ابوالعطاء صاحب موصوف بہائیوں کے دفتر میں بھی جاتے رہے اور وہاں ان سے گفتگو کرتے رہے ان گفتگوؤں میں بھی لوگ کثرت سے شریک ہوئے۔ان گفتگوؤں اور سوال و جواب اور طرفین کی تقاریر کے مواقع پر جب کہ بہائی موقف کی کمزوری